قرآن کے بوسیدہ اوراق کاحکم

قرآن کے بوسیدہ اوراق کاحکم
اکتوبر 30, 2018
قرآن کے بوسیدہ اوراق کاحکم
اکتوبر 30, 2018

قرآن کے بوسیدہ اوراق کاحکم

سوال :قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کا کیا حکم ہے کا ان کو دفن کیا جاسکتا ہے؟ کیا طریقہ ہے؟ ِ

ھوالمصوب:

قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ میں جہاں لوگو ں کی آمدورفت بالکل نہ ہویا بالکل کم ہو اس طرف دفن کرسکتے ہیں جیسا کہ مسلمان میت کو دفنایا جاتا ہے، اگر لحد (بغلی قبر) کی شکل بناکر دفن کیا جائے تو بہتر ہے،فتاویٰ عالمگیری میں صراحت ہے: المصحف إذا صار خلقا من وضعہ لایقرأ منہ وتخاف أن یصنع یجعل فی خرقۃ طاھرۃ ویدفن ودفنہ أولیٰ إلاإذا جعل فوقہ سقف بحیث لایصل التراب إلیہ فھوحسن(1) درمختار میں مسلمان کی طرح دفن کرنے کی صراحت موجود ہے: المصحف إذا صار بحال لایقرأ فیہ یدفن کالمسلم(۲) قرآن کے بوسیدہ اوراق محفوظ کرنے کے سلسلہ میں ایک دوسری صورت علامہ شامیؒ نے لکھی ہے کہ اس کو پانی سے دھودیا جائے یا پانی میں ڈال دیا جائے، پانی میں ڈالنے کی شکل یہ ہوگی کہ بوسیدہ قرآن کے ساتھ کوئی وزنی چیز باندھ دی جائے اور اس طرح اس کو بہتے ہوئے گہرے پانی میں یا کنوئیں کی تہہ میں احترام کے ساتھ پہونچایا جائے کہ بے حرمتی کا احساس نہ ہو: ولابأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أو تدفن وھوأحسن…… وکذلک المصحف فلیس فی دفنہ أصالۃ لہ بل ذلک إکرام خوفاً من الإمتھان(۳) تحریر:محمد ظفرعالم ندوی

تصویب:ناصر علی ندوی