شعبۂ تعلیم

 دارالعلوم کا تعارف
دار العلوم کی مدت تعلیم چار مرحلوں پر منقسم ہے
پہلا مرحلہ
ابتدائی (معہد) کا ہے، اس سال دارالعلوم کے ابتدائی مکاتب میں ۲۰۶۴طلبہ زیر تعلیم ہیں، اس میں پرائمری سے قبل ایک سال چھوٹے بچوں کے لیے، پھر ۵؍سال پرائمری کے ہوتے ہیں، ابتدائی تعلیم کے یہ مدارس و مکاتب شہرکے مختلف محلوں اور علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان مدارس میں بچوں کو مادری زبان اور بنیادی مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے، اور گورنمنٹ اسکول کے معیار کے مطابق رائج الوقت مضامین مع ہندی و انگریزی پڑھائے جاتے ہیں۔ لکھنؤ سے باہر کے طلبہ جو بورڈنگ میں رہ کر پرائمری تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کا نظم معہد سیدنا ابی بکر الصدیق مہپت مئو اور مدرسہ مظہرالاسلام بلوچ پورہ شہر لکھنؤ میں کیا گیا ہے۔
دوسرا مرحلہ
ثانوی (معہد) کا ہے جو چھ ثانوی درجات پر مشتمل ہے، ثانویہ اولی تا ثانویہ سادسہ اور عصری درس گاہوں کے معیار کے لحاظ سے مڈل اور ہائی اسکول کی سطح کے مطابق ہے، اس میں عربی اور علوم اسلامیہ کے علاوہ انگریزی اور جنرل سائنس ہائی اسکول کے معیار تک ہے، سال رواں معہد (ثانوی) میں ۸۴۲ طلبہ ہیں۔
تیسرا مرحلہ
کلیہ کا ہے، یہ چار تعلیمی سالوں پر مشتمل ہے، جو تعلیمی سطح کے لحاظ سے عصری درسگاہوں کے انٹر اور بی․اے․ کے معیار کے مطابق ہے، ان میں عربی ادب اور حدیث وفقہ وتفسیر اور ان سے متعلق مضامین کی اعلیٰ اور معیاری تعلیم کا انتظام ہے، عربی زبان میں صحیح اور اچھا لکھنے بولنے کی بھی استعداد پیدا کی جاتی ہے، انگریزی تعلیم کا بھی انتظام ہے، جس کا معیار بی․ اے․ تک ہے، اس سے فراغت پر طالب علم کو عالیہ کی سند ملتی ہے، جو اندرون وبیرون ملک وقیع نظر سے دیکھی جاتی ہے۔
کلیہ کی تعلیم تین بڑے شعبوں میں تقسیم ہے، ایک شعبہ کو ’’کلیۃ الشریعہ واصول الدین‘‘ اور دوسرے کو ’’کلیۃ اللغۃ العربیہ‘‘ اور تیسرے کو ’’کلیۃ الدعوۃ‘‘ کہتے ہیں، ثانوی تعلیم کے بعد طالب علم کی لیاقت کے لحاظ سے تینوں کلیات میں سے ایک کو اختیار کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
چوتھا مرحلہ
درجات علیا کاہے۔ ان میں اختصاص کی تعلیم دی جاتی ہے، کلیۃ الشریعۃ میں قسم التفسیر، قسم الحدیث، قسم الفقہ اور ان كے الگ الگ رئیس ہیں، کلیۃ اللغۃ اور کلیۃ الدعوۃ کا الگ الگ نظام ہے۔
المعہد العالی
المعہد العالی للقضاء والافتاء
المعہد العالی للدعوۃ والفکر الإسلامی
فضیلت وتخصص (درجات علیا) کے فارغین کی مزید تعلیم وتربیت کے دو ادارے ہیں جس کے الگ الگ ذمہ دار ہیں۔