معتمد تعلیم

مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی سابق ناظم ندوۃ العلماء کے بھانجے دار العلوم ندوۃ العلماء کے فاضل، مشہور صحافی وادیب مصنف و مفکر حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی تکیہ شاہ علم اللہ حسنی رائے بریلی میں 1353ھ / 1932ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ الٰہیہ رائے بریلی میں اور خاندانی بزرگ مولانا سید عزیز الرحمن چشتی سے پڑھی اور خالہ سید امۃ اللہ تسنیم مرحومہ سے حاصل کی، پھر دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا، اور عا لمیت اور پھر فضیلت کیا، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی میں بی اے کی ڈگری لی، دار العلوم ندوۃ العلماء میں 1952ء میں معاون مدرس بھی رہے اور اسی سال رمضان المبارک مسوری دہرہ دون میں شیخ وقت حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری کے ساتھ گذارا، پھر دہلی آئے جہاں انہیں آل انڈیا ریڈیو میں عربی سیکشن میں خدمات کا موقع ملا، اور ان کو اس کے ذریعہ ملک کی اور بین الاقوامی شخصیات کا اچھا تعارف حاصل ہوا، اور ملاقات کے مواقع حاصل ہوئے، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، جواہر لال نہرو، جمال عبدالناصر (مصر) شاہ سعود (سعودی عرب) وغیرہ قابل ذکر شخصیات ہیں،1973ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں دوبارہ آئے اور اس کے لئے اچھے مشاہرے کی قربانی دی، استاد ادب عربی، پھر وکیل کلیۃ اللغۃ، پھر عمید کلیۃ اللغۃ العربیۃ پھر 1427ھ / 2006ء میں معتمد تعلیم مجلس انتظامی ندوۃ العلماء نے چنا اور آپ نے نصاب و نظام تعلیم میں بعض اہم اصلاحات و ترمیمات کی سفارش کی جو منظور کی گئیں۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے ساتھ حج کا سفر کیا اور اسی موقع پر شاہ فیصل شہید سے خصوصی ملاقات میں ساتھ رہے، ۱۹۸۴ء میں اردن، یمن، سعودی عرب، کویت، پاکستان کے سفر میں ساتھ رہے، جہاں عالم اسلام کی متعدد با اثر شخصیات سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال کا اچھا موقع ملا۔ جب میں اردن کے امیر حسن بن ظلال نائب الملک اور جنوبی یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح اسی سفر میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں، عالم عربی کے اسلامی، مفکر ایل قلم جمع ہوئے، رابطۂ ادب اسلامی اور عالمی تنظیم کی تشکیل ہوئی جس کا صدر بالاتفاق حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کو چنا گیا۔
الرائد کے رئیس التحریر، البعث الاسلامی کے شریک ادارت ہونے کے ساتھ عربی اردو کی کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں إلی نظام عالمی جدید، الغزو الفکری، الامام احمد بن عرفان الشہید، ادب اھل القلوب، الشیخ ابوالحسن الندوی قائداً حکیما، مختصر الشمائل النبویۃ، أسوۃ حسۃ، مسحن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، وغیرہ کئی کتابیں ہیں۔