وجوب غسل سے متعلق ایک سوال

وجوب غسل سے متعلق ایک سوال
نومبر 1, 2018
مذی موجب غسل نہیں ہے
نومبر 1, 2018

وجوب غسل سے متعلق ایک سوال

سوال: اگر کوئی مرد اپنے خاص حصہ میں کپڑا لپیٹ کر جماع کرے اور کپڑا اس قدر موٹا ہوکہ جسم کی حرارت اس کی وجہ سے محسوس نہ ہو تو غسل فرض نہ ہوگا؟

ھــوالــمـصــوب:

درمختار میں ہے:

ولاعند وطی بھیمۃ أو میتۃ أو صغیرۃ غیرمشتہاۃ بأن تصیرمفضاۃ بالوطیٔ (۴)

(قولہ بأن تصیر مفضاۃ) أی مختلطۃ السبیلین وفی المسئلۃ خلاف، فقیل یجب الغسل مطلقا وقیل لا والصحیح أنہ اذا أمکن الایلاج فی محل الجماع من الصغیرۃ ولم یفضھا فھی ممن تجامع فیجب الغسل سراج، اقول: لایخفی أن الوجوب مشروط بما اذا زالت البکارۃ لأنہ مشروط فی الکبیرۃ کما یاتی قربیاً ففیہا بالأولیٰ(۱)

اس مسئلہ کے بارے میں وجوب غسل وعدم وجوب دونوں طرح کے اقوال پائے جاتے ہیں لیکن وجوب غسل کا قول راجح اور احتیاط پر مبنی ہے، لہٰذا غسل واجب ہوجائے گا، صاحب ردالمحتارنے بھی وجوب غسل کے قول کو ہی اختیار کیا ہے، عبارت یہ ہے:

(قولہ علی الاصح) قال بعضھم یجب لأنہ یسمی مولجا وقال بعضھم لایجب بحر وظاھر القولین الاطلاق، قولہ الأحوط أی وجوب الغسل فی الوجھین بحروسراج أقول، والظاھر أنہ اختیار للقول الأول من القولین، وبہ قالت الأئمۃ الثلاثۃ کما فی شرح الشیخ اسماعیل عن عیون المذاہب وھو ظاہر حدیث اذا التقی الختانان وغابت الحشفۃ وجب الغسل (۲)

تحریر:محمد ظفرعالم ندوی  تصویب:ناصر علی ندوی