اردوزبان میں خطبہ

اردوزبان میں خطبہ
نومبر 10, 2018
اردوزبان میں خطبہ
نومبر 10, 2018

اردوزبان میں خطبہ

سوال:میرانام حافظ الیاس ہے اور میں کناڈا میں ریجینا کی مسجد کا امام ہوں۔ ہمارے حلقہ میں مختلف قوموں کے دینی بھائی ہیں، جن میں لیبیا، فلسطین، الجزائر، صومالیا، سعودی عرب، ہندوستان اور پاکستان شامل ہیں۔

(۱) مولانا محمد علی مونگیریؒ اردو میں خطبہ کے قائل تھے، مولانا عبدالحی فرنگی محلی ؒ کا بھی یہی رجحان ہے (مجموعہ فتاویٰ عبدالحی،ص:۲۲۴)

رابطہ عالم اسلامی کے زیراہتمام مکہ فقہ اکیڈمی کی بھی یہی رائے ہے(اسلامی فقہ اکیڈمی مکہ کے فقہی فیصلے،ص:۱۳۴)

میں ایک گجراتی مسلمان ہوں اور ترکیسر کے فلاح دارین دارالعلوم سے فضیلت کی سند میرے پاس ہے۔ میں ریجینا گزشتہ نومبر میں آیا تھااور یہاں جمعہ کی نماز کا اہتمام شروع کیا۔ میں اس وقت سے خطبہ عربی میں دیتا تھا اور دوسرے اذان کے قبل ۲۰منٹ انگریزی میں بیان کرتا تھا۔ ابھی تک کوئی پریشانی نہیں تھی مگر گزشتہ جمعہ میرے پاس دوحضرات آئے اور انہوں نے کہا کہ یہ عربی میں خطبہ جنوبی ایشیا کا رواج ہے۔ یہ زیادہ موثر ہوسکتا ہے اگر انگریزی میں ہو۔ میں گزارش کرتا ہوں کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس پر تشرع فرمائیں ۔

میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فتنہ نہیں ہے، میں صرف اپنے لوگوں کو یہاں وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ ریجینا کے مسلمان طبقہ کو بہت سے امور میں وضاحت کی ضرورت ہے۔ میں اس لئے آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کی تشفی کے لئے مجھ کو ایک تفصیل کے ساتھ تشریح اور وضاحت کی ضرورت ہے جو آپ سے مل سکتی ہے۔ اگراس کاجواب دارالافتاء کے پیڈ پر مہر کی تصدیق کے ساتھ مل جائے تو بہتر ہے۔

ھــوالــمـصــوب:

جمعہ وعیدین کے خطبہ کی دو حیثیتیں ہیں، پہلی حیثیت ذکر وعبادت کی اور دوسری حیثیت وعظ وتذکیر کی ہے۔ پہلی حیثیت غالب ہے،کیوں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فاسعوا إلیٰ ذکر ﷲ(۱)

عام طور پر مفسرین نے اس سے خطبہ مراد لیا ہے(۲)

بخاری ومسلم کی روایت ہے:

فإذا خرج الإمام حضرت الملائکۃ یستمعون الذکر(۳)

(۱) سورہ جمعہ:۹    (۲) روح المعانی،ج۲۸،ص:۴۱۲

(۳)صحیح البخاری کتاب الجمعۃ ،باب فضل الجمعۃ،حدیث نمبر:۸۸۱

جب امام نکلتا ہے (یعنی اپنے حجرہ سے) ملائکہ حاضر ہوکر غور سے ذکر سنتے ہیں۔

صاف ظاہر ہے کہ یہاں ذکر سے مراد خطبہ ہے۔ اکثر فقہاء نے خطبہ کو ذکر ہی قرار دیا ہے(۱) بعض علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ جمعہ کا خطبہ دورکعت نماز کا بدل ہے(۲) کیوں کہ خطبہ ونماز (جمعہ) ظہر کی چاررکعت کے قائم مقام ہیں۔ لہذا خطبہ کا مثل نماز ہونا بہت واضح ہے، اگرچہ بعض احکام نماز سے مختلف ہیں۔ لیکن جزئی مثلیت بہرحال ہے۔ اسی لئے مثل نماز کے خاموشی (خواہ خطبہ کی آواز کانوں تک نہ پہونچتی ہو) اور جمعہ کی نماز کے مثل خطبہ کیلئے بھی وقت ظہر کا ہونا لازم ہے۔ بہرحال خطبہ میں تعبدی پہلو نمایاں ہے، عبادت وذکر کے لئے عربی زبان ہی لازمی ہے، بلکہ وہی کلمات ضروری ہیں جو کہ آیات واحادیث میں وارد ہوئے ہیں، آیات وروایات جمعہ وعیدین میں بکثرت ذکر کی جاتی ہیں، آیات وروایات کے ترجمہ میں اصل کا اثرکیسے ہوسکتاہے۔ ایک صحابیؓ کو رسول ﷲ ﷺ نے ایک دعا تعلیم دی جس میں’بنبیک الذی أرسلت‘ کی جگہ صحابی نے یہ سمجھ کر کہ لفظ رسول میں زیادہ معنویت ہے، ’برسولک الذی ارسلت‘ پڑھا، تو آپ ﷺ نے ان کو اس تبدیلی سے روک دیا(۳)

عیدین وجمعہ کا خطبہ عربی میں جیسے رسول ﷲ ﷺ نے دیا ویسے ہی صحابہ کرام وخلفاء راشدین رضوان ﷲ علیہم اجمعین نے اپنے اپنے ادوار میں بھی دیا ہے، جبکہ ان کے مخاطبین میں کثرت سے عجمی نو مسلم افراد ہوا کرتے تھے، بعض صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کو ان عجمیوں کی زبان میں بات کرنے کا ملکہ بھی تھا۔ ایک واقعہ میں حضرت ابوہریرہؓ نے ایک عورت سے اسی کی زبان میں بات کی۔ سنن أبی داؤد میں ’رطن لھا ابوھریرۃ‘(۴)ہے، لیکن حضرت ابوہریرہؓ نے اس عجمی علاقہ میں رہنے کے باوجود نہ کبھی مخاطبین کی رعایت میں عجمی زبان میں خطبہ دیا یا خطبہ کے درمیان عجمی زبان استعمال

(۱) فأما الفرض فشیئان:الوقت وذکرﷲ تعالیٰ۔ البحرالرائق،ج۲،ص:۲۵۸

(۲) صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب فضل الجمعۃ، حدیث نمبر:۸۸۱

(۳) صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، باب مایقول عند النوم، حدیث نمبر:۲۷۱۰

(۴)……قال بینما أنا جالس مع أبی ھریرۃ جاء تہ امرأۃ فارسیۃ معھا إبن لھا فادعیاہ وقد طلقھا زوجھا فقالت: یا أبا ھریرۃ ورطنت لہ بالفارسیۃ زوجی یرید أن یذھب بابنی فقال أبوھریرۃ استھما علیہ ورطن لھا بذلک۔ سنن أبی داؤد، کتاب الطلاق، باب من أحق بالولد، حدیث نمبر:۲۲۷۷

کی ۔ صحابہ کرامؓ نے مصر وشام اور ایران فتح کیا لیکن کہیں بھی اس سنت کو نہیں بدلا، بلکہ ان عجمی مسلمانوں نے خود کو اس لائق بنایا کہ نماز وخطبہ اورقرآن وحدیث کو عربی زبان ہی میں سمجھیں ، لیکن آج ہم اس کے برعکس ان کو بدل کر اپنی زبان میں سننا چاہتے ہیں اور خود اپنے کو اس لائق بنانے کی ادنیٰ بھی کوشش نہیں کرتے۔ افسوس کی بات ہے کہ تھوڑے سے معاشی فوائد کے لئے غیروں کی زبان بڑی محنت سے سیکھی جاتی ہے، لیکن ایک بڑے دینی مقصد کے تحت عربی زبان سیکھنے کی ادنیٰ کوشش سے بھی گریز ہے اور رسول اکرم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کی جانب مطلق توجہ نہیں ہے:

فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین تمسکوا بھا وعضوا علیھا بالنواجذ(۱)

یعنی تم پر میرا اور خلفاء راشدین کا طور طریق لازمی ہے۔ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو:

إیاکم ومحدثات الأمور(۲)

نئی نئی باتوں سے دور رہو۔

امام ابوحنیفہؒ نے ابتداء میں عجمیوں کے خیال سے خطبہ ونماز کے بارے میں یہ قول اپنایا تھا کہ عجمی زبان میں خطبہ ونماز کا ادا کرنا درست ہے لیکن بعد میں اس سے انہوں نے رجوع کرلیا۔ بعض فقہاء نے وعظ وارشاد کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے جواز کا فتویٰ دیا ہے، لیکن ان کی تعداد معدودے چند ہے، ان کے حق میں بھی آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے جواز کا فتویٰ دینے کی گنجائش نظر نہیں آتی، موجودہ دور میں دشمنان دین ہمارے دینی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ہم مسلمانوں کے ذہنوں میں اس طرح کی باتیں ڈالتے رہتے ہیں تاکہ یہ دینی، عالمی اتحاد بھی باقی نہ رہے۔ آج خطبہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے، کل اذان کو بعدہ نماز کو نشانہ بنایا جائے گا، انہی دشمنان اسلام نے کل ماضی میں مصطفی کمال اتاترک یعنی ایک مسلمان ہی کے ہاتھوں ہمارے صوری سیاسی اتحاد یعنی خلافت کو ختم کیا، ترکی سے عربی بے دخل کی، اس بے دخلی ہی کا نتیجہ آج وہاں اسلام بیزاری کی صورت میں نظر آرہا ہے۔ اس پس منظر میں دینی ودنیوی دونوں طرح کے مصالح متقاضی ہیں کہ خطبہ کو کسی دوسری زبان

(۱) جامع الترمذی، کتاب العلم، باب الأخذ بالکتاب، واجتناب البدع، حدیث نمبر:۲۸۹۱

(۲) المستدرک علی الصحیحین، کتاب العلم، حدیث نمبر:۳۲۹

میں نہ دیا جائے، کیا ضروری ہے کہ اس سنت نبوی ﷺ ہی کو بدلا جائے، بلکہ مخاطبین کے وعظ وارشاد کے لئے نماز کے بعد یا خطبہ سے قبل نظم کیا جاسکتاہے۔

تحریر:محمد طارق ندوی، مسعود حسن حسنی       تصویب:ناصر علی ندوی

نوٹ:عربی زبان میں خطبہ بہتر ہے، البتہ مکمل عربی خطبہ کے بعد مقامی زبان میں کچھ مزید نصیحت کے طور پر کہہ دیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔