دعا تعویذ کرنے والے کی امامت

دعا تعویذ کرنے والے کی امامت
نوفمبر 3, 2018
جذامی امام کے پیچھے نماز
نوفمبر 3, 2018

 

دعا تعویذ کرنے والے کی امامت

سوال:ایک حافظ وقاری ہے مسئلہ وغیرہ سے بھی واقف ہے اور امامت کرتا ہے اور لوگوں کو جو بیمار وپریشان آتے ہیں، ان کو تعویذ لکھ کر دیتا ہے، ﷲ کے حکم سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے، وہ شخص کرایہ کا ایک کمرہ لے کر

(۱)أن النبی ﷺ کان ینفث علی نفسہ فی المرض الذی مات فیہ بالمعوذات فلما ثقل کنت أنفث علیہ بھن وأمسح بید نفسہ لبرکتھا فسالت الزھری کیف ینفث، قال کان ینفث علی ید ثم یمسح بھما وجھہ۔ صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الرقی بالقرآن والمعوذات:۵۷۳۵

واختلف فی الاسترقاء بالقرآن نحو أن یقرأ علی المریض والملدوغ أو یکتب فی ورق ویعلق أویکتب فی طست فیغسل ویسقی المریض فأباحہ عطاء ومجاھد وأبوقلابۃ وکرھہ النخعی والبصری کذا فی خزانۃ الروایات۔ الفتاویٰ الہندیہ،ج۵،ص:۳۵۶

اس میں یہ کام کرتا ہے جو لوگ آتے ہیں ان سے دس روپئے یہ کہہ کرلے لیتا ہے کہ کمرہ کا کرایہ، بجلی کا کرایہ اور جو زعفران اور کاغذ لاتے ہیں اس کے دس روپئے لوگ دیتے ہیں، تو کیا اس امام صاحب کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟

ھـو المـصـوب

تعویذ وغیرہ کا پیشہ بنانا درست نہیں ہے، ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ ہوگی۔

تحریر:ساجد علی      تصویب: ناصر علی ندوی