بے وضو ’ناپاک‘ نہیں کہلائے گا ؟

کیا ناپاکی پھیلنے سے غسل ضروری ہے ؟
نومبر 1, 2018
مومن کا جوٹھا پاک ہے
نومبر 1, 2018

بے وضو ’ناپاک‘ نہیں کہلائے گا ؟

سوال:زید (جوکہ عالم ہیں) ایک مرتبہ مسجد میں زکٰوۃ کے عنوان پر تقریر کررہے تھے، دوران تقریر انہوں نے کہا کہ ’زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعہ بقیہ مال کو پاک کرلیا جاتا ہے‘ اور پاک کرنے کا مطلب سمجھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ ہمارے مال میں کہیں کوئی گندگی تو ہے نہیں اور کوئی ناپاکی تو نظر نہیں آرہی ہے تو پھر مال کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہوا؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں کہ جن کی حکمتوں کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں اور وہاں تک ہماری رسائی ناممکن ہے، چاہے ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے، ہمیں بے چوں وچرا شریعت کے ہر حکم پر عمل کرنا ہے‘۔۔ اور مثال اس طرح دی کہ ’جس طرح انسان پاخانہ اور پیشاب سے فارغ ہوتا ہے اور محل نجاست کو شریعت کے حکم کے مطابق صاف بھی کرلیتا ہے اب بظاہر اس کے جسم پر کہیں کوئی گندگی نہیں ہے کوئی ناپاکی نہیں ہے لیکن کیا وہ اس حالت میں نماز پڑھ سکتا ہے، اور دیگر وہ عبادات جس کے لئے وضو ضروری ہے کیا وہ بغیر وضو کرسکتا ہے؟۔ ظاہر ہے کہ شریعت کا حکم ہے کہ وہ بغیر وضو کے نہیں کرسکتا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس صورت میں اگرچہ بظاہر کوئی گندگی اور ناپاکی نظر نہیں آرہی ہے لیکن شریعت مطہرہ نے بغیر وضو کے انہیں ناپاک سمجھا ہے اور بغیر طہارت یعنی بغیر وضو کے وہ نماز نہیں پڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح شریعت نے زکوٰۃ کی ادائیگی کے بغیر پورے مال کو ناپاک سمجھا ہے اور ایک مخصوص مقدار زکوٰۃ کی صورت میں ادا کردینے سے پورا مال پاک ہوجاتا ہے جس طرح چند مخصوص اعضاء کا وضو کے اندر دھل لینے سے شریعت پورے جسم کو پاک سمجھتی ہے اور پھر نماز وغیرہ وہ تمام عبادت جو بغیر وضو کے جائز نہیں ہوتے اب شریعت انہیں اس حالت میں (یعنی وضو کی حالت میں) کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

نماز کے بعد بکر نے (جو عالم تو نہیں ہیں لیکن دین سے واقفیت ہے) زید کے اس جملہ ’بغیر وضو کے شریعت مطہرہ نے انہیں ناپاک سمجھا ہے‘ پر اعتراض کردیا اور وہ بحث یہ کرنے لگے کہ صرف حالت جنابت ہی میں کسی کو ’ناپاک‘ کہا جاسکتا ہے اور اس کے علاوہ کے حالتوں میں انہیں ’بے وضو‘ تو کہہ سکتے ہیں لیکن ’ناپاک‘ نہیں کہہ سکتے۔

چنانچہ زید نے انہیں سمجھایا کہ حدث یعنی ناپاکی کی دو قسمیں ہیں:

۱- حدث اکبر (یعنی بڑی ناپاکی یعنی حالت جنابت والی ناپاکی)

۲- حدث اصغر (یعنی چھوٹی ناپاکی) یعنی وہ حالت جس میں کہ انسان پر غسل فرض ہو تو وہ بڑی ناپاکی ہے اور جس حالت میں صرف وضو کرنا ضروری ہو اور بغیر وضو کے وہ عبادت نہیں کرسکتے تو وہ چھوٹی ناپاکی ہے۔ بہرحال ناپاکی کی حالت دونوں حالتوں کو کہہ سکتے ہیں بس فرق یہ ہے کہ وہ بڑی ناپاکی ہے اور یہ چھوٹی ناپاکی۔ لیکن بکر کی ضد یہ ہے کہ آپ کا یہ جملہ غلط ہے اس پر دونوں کے درمیان کافی بحث بھی ہوچکی ہے۔ چنانچہ زید نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ علماء کرام سے اس سلسلہ میں دریافت کرلیجئے اگر میری غلطی ہے تو میں تسلیم کرلوں گا۔

لہٰذا برائے مہربانی یہ واضح فرمادیں کہ کیا زید کا مذکورہ جملہ مذکورہ پس منظر میں صحیح ہے یا غلط؟بات زید کی صحیح ہے یا بکر کی؟

ھــوالــمـصــوب:

بکرکا کہنا کہ بغیر وضو کی حالت کو ناپاک نہیں کہا جائے گا، یہ درست ہے۔ شریعت ایسے شخص کوناپاک نہیں کہتی۔ البتہ یہ معنوی ناپاکی ہے۔ لہذا نماز وغیرہ وضو شرط ہے۔

تحریر:محمدمستقیم ندوی               تصویب:ناصر علی ندوی