سورہ فاتحہ قرآن کا حصہ ہے

سورہ فاتحہ قرآن کا حصہ ہے
اکتوبر 30, 2018
سورہ فاتحہ قرآن کا حصہ ہے
اکتوبر 30, 2018

سورہ فاتحہ قرآن کا حصہ ہے

سوال :سورہ فاتحہ کا شمار قرآ ن پاک میں ایک سورہ کی حیثیت سے ہے یا نہیں ؟تراویح میں سورہ فاتحہ قرآن پاک کی تمام سورتوں کی طرح پڑھی کیوں نہیں جاتی ہے ،جب کہ کہتے ہیں کہ اگر پورے قرآن میں ایک جگہ بھی بسم اﷲ شریف زور سے نہ پڑھی جائے تو سننے والوں کا قرآن پاک مکمل نہیں ہوتا، حافظ صاحب تراویح کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑ ھتے ہیں مگر وہ رکعت کی واجب تلاوت ہے ، اس کے علاوہ سورہ کی حیثیت سے باضابطہ سورہ فا تحہ نہیں پڑھتے ،اور پورا قرآن اس طرح پڑھتے ہیں کہ آغاز سورہ بقرہ سے کرتے ہیں اور آخری تراویح کی بیسویں رکعت میں کا فرون سے سورہ ناس تک پڑھتے ہیں پھر سورہ بقرہ کی چند آیتیں پڑھ کر رکعت ختم کرتے ہیں ،کیا اس طرح قرآن پاک کی تمام سورتوں کی ترتیب کی طرح سورہ فاتحہ کی بھی ترتیب شمار میں آجاتی ہے ،کیا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط ؟ ِ

ھوالمصوب:

سورہ فاتحہ کا شمار قرآن کی مستقل سورتوں میں ہوتا ہے ،قرآن پاک میں ہے: ولقد آتینا ک سبعا من المثانی والقرآن العظیم(۲) ہم نے آپ کو وہ چیزیں دی جس میں دو صفتیں ہیں ،ایک صفت یہ ہے کہ وہ سبع مثانی ہے ،دوسری صفت یہ کہ وہ قرآن عظیم ہے ،سبع مثانی کہنے کی وجہ مشہور ہے اور قرآن عظیم ا س کو اس لئے فرمایا کہ اس میں اجمالا تمام قرآن مجید کے مضامین موجود ہیں ۔ سورہ فاتحہ جب ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے تو دوسری سورتوں کی طرح پھر پڑھنے کی ضرورت نہیں(1) ِ
تحریر :محمد طارق ندوی تصویب :ناصر علی ندوی