زمین متحرک ہے یا ساکن؟

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا اصلاحی ؒکی ایک تحریر کا مطلب
اکتوبر 30, 2018
گیارہ ستمبر کے واقعہ پر ایک آیت سے غلط استدلال
اکتوبر 30, 2018

زمین متحرک ہے یا ساکن؟

سوال :ایک امام صاحب نے اپنی تقریرمیں فرمایا کہ قرآن عظیم کے فرمان کے مطابق یہ دنیا اپنی جگہ ساکت ہے مطلق حرکت نہیں کرتی ہے ،جس کسی کو کلام الہی کے اس فرمان پر یقین نہیں ہے اس کا ایمان نہیں ہے ،بلکہ سرے سے وہ شخص مسلمان نہیں ہے،حالانکہ موجودہ دنیا واضح طور پر یہ جان چکی ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس دنیاکے تمام قدرتی نظام کا دار ومدار زمین کی گردش پر ہی منحصر ہے ۔ ممکن ہے کہ قاریوں کی ،راویوں کی ،تحقیق وترتیب دینے والوں کی لغزش ہو، ورنہ کلام الہی پر شک کرنا نا ممکن ہے ،اس سلسلہ میں علماء کرام کی رائے کیا ہے؟اس کی وضاحت فرمائیں ،کہ کچھ لوگوں کا ایمان ان باتوں سے متزلزل ہورہاہے ،یا وہ شک میں مبتلا ہیں ۔ ِ

ھوالمصوب:

قرآ ن مجید کوئی سائنس کی کتاب نہیں ہے ،زمین گردش میں ہے یا نہیں، اس کو بتا نے کے لئے نہیں آیا ہے ،وہ ایک عظیم مقصد یعنی انسانی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے ،لہذ قرآن کریم زمین ساکت ومتحرک ہونے سے بحث نہیں کرتا ہے ،اسلام سے وہ خارج نہ ہوگا ،جو ساکت کہتا ہو یا متحرک کہتا ہو۔ امام صاحب کا دعویٰ کہ قرآن کے مطابق زمین اپنی جگہ ساکت ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ تحریرمحمد مستقیم ندوی

تصویب : ناصر علی ندوی