جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

قاضی کے اوصاف
اکتوبر 29, 2018
قرآن وحدیث سے ہٹ کر فتوی دینا
اکتوبر 29, 2018

جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

سوال :1-موجودہ زمانے میں دنیا کے حالات و واقعات اور معلومات سٹیلائٹ کے ذریعہ ،ٹیلی فون ،ٹیلیکس ،الیکٹرانک میل ،کمپوٹر ڈاٹا ٹرانسمیشن اور ٹیلی ویزن پر فوری طور پر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سنے، دیکھے اور پڑھے جاتے ہیں ،یہی خبریں اخبارات اور رسائل میں تصویروں کے ساتھ شائع ہوتی ہیں ،خود قرآن کریم میں زمین وآسمان کے مسخر کرنے کی بات کہی گئی ہے (سورہ لقمان ) اس آیت کی تفسیر میں مولانا شبیر احمد عثمانی تحریر کرتے ہیں ’’یعنی آسمان اور زمین کی کل مخلوق تمہارے کام میں لگادی ہے، پھر تم اس کے کا م میں کیوں نہیں لگتے ،کھلی نعمتیں وہ ہیں جو حواس کے ذریعہ مدرک ہوں یا بے تکلف سمجھ میں آجا ئیں ،چھپی وہ جو عقلی غور وفکر سے دریافت کی جائیں ،یا ظاہری سے مادی اور معاشی اور باطنی سے روحانی ومعادی نعمتیں مراد ہوں گی ،گویا پیغمبر بھیجنا ،کتاب اتارنا ،نیکی کی توفیق دینا سب باطنی نعمتیں ہوں گی ‘‘۔مذکورہ ذرائع ابلاغ سے ہر شخص کسی نہ کسی طرح منسلک ہیں ،تو کیا ان ذرائع ابلاغ سے مسلمان اجتناب کریں یا ان کا استعمال کریں ؟ ۲-اور کیا کمپوٹر کا استعمال مسلمانوں کے لئے درست ہوگا یا نہیں ؟ ِ

ھوالمصوب:

1-مذکورہ بالا ذرائع کو صحیح مقصد کے لئے استعمال کرنا اور ان سے استفادہ کرنا جائز ہے (1) ۲۔ کمپوٹر کا استعمال بھی صحیح مقصد کے لئے درست ہے ۔ تحریر: محمد مستقیم ندوی

تصویب: ناصر علی ندوی تعلیم