طلب العلم فریضۃ کو دنیوی علم پر منطبق کرنا

علم سے متعلق ایک روایت کی وضاحت
اکتوبر 30, 2018
’من عادی لی ولیا‘ کا مطلب
اکتوبر 30, 2018

طلب العلم فریضۃ کو دنیوی علم پر منطبق کرنا

سوال :ایک غریب مسلمان جمال جس کی عمر ۶۴سال ہے ،اس کا لڑکا مڈل بورڈ میں فرسٹ، میٹرک میں فرسٹ ،تمام مضامیں میں ڈسٹنکشن ،انٹر میڈیٹ میں پورے اسکول میں فرسٹ ہوا ہے ،لیکن غربت کی وجہ سے آگے نہیں پڑھ سکتا تھا ،اس کی مدد کی اپیل جمعہ کے دن عام مسلمانوں سے میں نے یہ کہتے ہوئے کہا کہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ اور اطلبوا العلم ولو بالصین کہ مسلمانوں کو خطاب کیا ،میں نے کہا کہ دینی تعلیم حاصل کرنا پہلا فرض ہے، اور پھر دنیوی تعلیم بھی حاصل کی جائے اس کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے حدیث رسول کی بے حرمتی کی ہے ،جو ناقابل برداشت ہے ،مسلمانوں کو دینی تعلیم کے علاوہ دنیوی تعلیم کے کسی شعبہ میں خرچ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ،اس سلسلہ میں سوال ہے کہ کیا اس سے حدیث رسول کی بے حرمتی ہوتی ہے ؟اور کیا دنیوی تعلیم پر خرچ کرنا درست نہیں ہے ؟ ِ

ھوالمصوب:

تعلیم کا اطلاق اصلا اس تعلیم پر ہوتا ہے جو ﷲ تعالی کے نام سے مربوط ہو ،اور لوگوں کے لئے فائدہ مند ہو ،ایسی تعلیم جو زندگی گزارنے کے شرعی طریقوں سے آگاہ کرے ،اور حلال وحرام سے واقفیت کراسکے، اس کا سیکھنا ضروری ہے ،حدیث نبوی سے یہی مراد ہے ،دراصل علوم کی دوقسمیں ہیں:1-خالص دینی علم ۲-خالص دنیوی علم ،پہلی قسم کا علم بقدر ضرورت سیکھنا ہر مسلمان کے لئے لازم اور فرض عین ہے ،ضرورت سے زائد مثلا علوم شرعیہ میں کمال پید ا کرنا تو یہ فرض کفایہ ہے ،دوسری قسم کا علم مباح ہے بشرطیکہ اس سے ضرر پہونچانے کی نیت نہ ہو ،مباح علم اگر اس نیت سے سیکھتاہے کہ اس سے اسلا م کی خدمت کریں گے اور انسانوں کو راحت پہونچائیں گے ،خود غرضی مقصود نہ ہو تو اس کو اجر و ثواب ملے گا (1) ِ
تحریر :مسعود حسن حسنی

تصویب : ناصرعلی ندوی