قبر سے متعلق چند مسائل

پکی قبریں بنانا
نومبر 11, 2018
تدفین کے بعد سورتیں پڑھنے کی اجازت
نومبر 11, 2018

قبر سے متعلق چند مسائل

سوال:شہر کا مٹی ضلع ناگپورمہاراشٹر میں مختلف مکتبۂ فکر کے تقریباً ۷۵ہزار مسلمان بستے ہیں۔ تجہیز وتکفین کے لئے یہاں ایک مسلم قبرستان ہے جو تقریباً ساڑھے چودہ ایکڑ زمین کی وسعت میں پھیلا ہوا ہے یہ ملت مسلمہ کی ملکیت ہے۔ اسی قبرستان میں چند ۱۹ویں صدی کی پختہ قبریں بھی ہیں جو آج تک اسی حالت میں موجود ہیں۔ ادھر چند دنوں سے اس قبرستان میں پختہ قبریں بنانے کا رجحان زوروں پر ہے۔ جس سے نئی قبریں بنانے میں دشواری درپیش ہے۔ آج بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر اگر پختہ قبریں بنانے کا جنون جاری رہا تو مستقبل میں دشواریوں اور مسائل کا سامنا ہوگا جس سے ملت میں خلفشار کا خدشہ ہے۔

مسلم قبرستان کی انتظامیہ کمیٹی نے اپنی منظور شدہ قرارداد کے تحت سیمنٹ، کانکریٹ، ٹائلس، اینٹ، ماربل وغیرہ سے پختہ قبر بنانے کا معاوضہ ۳۷۸۶ (تین ہزار سات سو چھیاسی) وصول کررہی ہے۔ اسی قبرستان کے ساڑھے چودہ ایکڑ زمین پر راستے، کنواں، مسجد، وضوخانہ، آفس، بڑے اور چوڑے درخت بھی ہیں۔ اگر اس طرح سے پختہ قبریں بنتی رہیں تو تقریباً دس ہزار قبریں بننے کے بعد دیگر مسلمانوں کو دفن کرنے کے لئے جگہ باقی نہیں رہے گی اور پختہ قبریں بنانے والے افراد کی تعداد بآسانی دستیاب ہے۔ اطراف میں قبرستان کے لئے دوسری زمین نظر نہیں آتی جسے قبرستان کے لئے استعمال کیاجاسکے۔ پختہ قبریں بننے کے بعد صدیوں تک قائم رہتی ہیں۔ ہماری

(۱)والمشی فی المقابر بنعلین لا یکرہ عندنا کذا فی السراج الوھاج۔الفتاویٰ الہندیہ،ج۱،ص:۱۶۷

معلومات کے مطابق جب تک قبرکا نشان ظاہر رہتا ہے اس وقت تک اس کا احترام سب پر لازم ہے لہذا ایسی قبروں کو پلٹایا نہیں جاسکتا۔

مندرجہ بالا حالات کے تحت مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات قرآن واحادیث مبارکہ کی روشنی میں مطلوب ہیں۔

۱-شرعاً قبر کیسی بنانا چاہئے اس کی مسنون ہیئت کیسی ہونی چاہئے؟

۲-اینٹ،سیمنٹ، ٹائلس، ماربل وغیرہ سے پکی قبریں بنانا درست ہے کیا؟

۳-قبرستان کی مجلس منتظمہ نے ۴فٹ بائی ۸ فٹ زمین دینے اور ۳۷۸۶ روپئے لینے کے بعد پختہ قبریں بنانے کی جو تجویز پاس کی وہ شریعت میں جائزہے یا ناجائز؟

۴-کیا مجلس منتظمہ قبرستان غیرشرعی امور پر فیصلہ لے سکتی ہے؟ اور ان حالات میں انتظامیہ کمیٹی کن احکام کے تحت اپنا کام انجام دے سکتی ہے؟

۵-اگر مجلس منتظمہ قبرستان غیرشرعی فیصلہ لے تو کیا عوام کو اختیار ہوگا کہ اس کمیٹی کو برخاست کرکے دوسری نئی کمیٹی تشکیل دے؟

ھــوالــمـصــوب:

۱-غیرپختہ مٹی کی قبر ہونی چاہئے، اس کی پشت کوہان نما کی جائے:

ویسنم القبر قدر الشبر ولایربع(۱)

۲-پکی قبر بنانا درست نہیں ہے(۲) نورالایضاح کے حاشیہ پر درج ہے:

قال فی غریب الخطابی نھی عن تقصیص القبور وتکلیلھا والتقصیص التجصیص والتکلیل بناء الکاسل وھی القباب و الصوامع التی تبنی علی القبر(۳)

(۱) الفتاویٰ الہندیہ،ج۱،ص:۱۶۶

(۲)نھی رسول ﷲ ﷺ أن یجصص القبر۔صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النھی عن تجصیص القبر۔ حدیث نمبر:۹۷۰

(۳)حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح،ص:۶۱۱

۳-انتظامیہ کمیٹی کے لئے پختہ قبر بنانے کا معاوضہ لینا درست نہیں ہے۔

۴-نہیں، شرعی احکام کے مطابق عمل کرے۔

۵-اگر مجلس منتظمہ شرعی امور کے مطابق عمل نہیں کرتی ہے تو ارباب حل وعقد بذریعہ عدالت ان کی جگہ پر دوسری مجلس منتظمہ کی اجازت حاصل کرلیں، اپنے طور پر معزول کرنے میں نزاع کا اندیشہ ہے۔

تحریر:محمد مستقیم ندوی               تصویب:ناصرعلی ندوی