ہرچار رکعات کے بعد تسبیح کاثبوت

ہرچار رکعات کے بعد تسبیح کاثبوت
نومبر 10, 2018
ہرچار رکعات کے بعد تسبیح کاثبوت
نومبر 10, 2018

ہرچار رکعات کے بعد تسبیح کاثبوت

سوال:نماز تراویح کی ہر چار و دورکعات کے درمیان کچھ دعائیں پڑھنے کا معمول ہے یہ تسبیحات اجتماعی طور پر بالجہر پڑھنے کا معمول ہے۔

۱-پہلے دوگانہ کے بعد اس دعا کو پڑھتے ہیں’فضل من اﷲ ونعمۃ ومغفرۃ ورحمۃ……وﷲ الحمد‘؟

==     یہ تسبیح احادیث میں یکجا کہیں نہیں ملی،البتہ اس کے متعدد ٹکرے مختلف احادیث میں ملتے ہیں، فرشتوں کی تسبیح ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

وتسبیحہم أن یقولوا: سبحان الملک ذی الملکوت، سبحان ذی العزۃ ذی الجبروت،سبحان الحی الذی لا یموت،سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت ،سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح، قدوس قدوس، سبحان ربی الاعلی، سبحان ذی الملک والجبروت والکبریاء والعظمۃ سبحانہ أبد الأبد۔المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ،کتاب الإیمان والتوحید،باب عظمۃ اﷲ وصفاتہ،حدیث نمبر: ۳۰۱۳، ج ۱۲، ص:۵۷۱

اس روایت کے بعض حصے کوحاکم نے اپنی مستدرک میں نقل کیاہے اوراسے صحیح بخاری کی شرط کے مطابق کہا ہے جبکہ ذہبی نے اس کو منکر غریب کہاہے،دیکھئے:المستدرک علی الصحیحین ،کتاب معرفۃ الصحابہ حدیث نمبر:۴۵۲۰،اسی طرح ابن بطال نے بخاری کی شرح میں(کتاب التعبیرج۱۰،ص:۱۳۳)بوصیری نے اتحاف الخیرۃ المہرۃ بزوائد المسانید العشرۃ میں (کتاب الفتن باب فی التلاعن و تحریم دم المسلم ،ج۸،ص:۵۵)اورسیوطی نے جامع الاحادیث میں (ج۹،ص:۲۰۰)مذکورہ تسبیح کے بعض حصوں کونقل کیاہے۔جامع الاحادیث میں مذکور روایت کے الفاظ اوپرذکی گئی تسبیح سے بہت قریب ہیں، روایت کے الفاظ اس طرح ہیں’’سبحان ذی الملک والملکوت سبحان ذی العرش والجبروت سبحان الحی الذی لا یموت سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح‘‘اس تسبیح کی فضیلت میں یہ بھی مذکور ہے کہ جوشخص اس دعا کوکسی دن یامہینہ یاسال یا عمرمیں ایک مرتبہ پڑھ لے اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں(جامع الاحادیث للسیوطی،ج۹، ص:۲۰۰)بہرحال یہ تسبیح بطوردعا یابطور تسبیح ہر چاررکعت کے بعد متعین طورپرثابت نہیں ہے۔

(۱)درمختار مع الرد،ج۲،ص:۴۹۶

۲-دوسری ترویحہ میں اشہد أن لاالہ الخ ۔البدر محمد المصطفی الخ پڑھا جاتا ہے ، اسی طرح ہر تراویح میں الگ الگ دعا پڑھنے کا معمول ہے؟

ان کی شرعی حیثیت کیاہے؟

(۲) قرآن حدیث آثار صحابہؓ سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟

(۳) صحابہ کے دور میں ان کا رواج رہا ؟

(۴) اگر نہیں تو کس کی ایجاد ہیں، اس کا رواج مسلمانوں میں کب سے ہوا؟

(۵) مصلیوں کو ان ہی تسبیحات کا پابند بنانا کیساہے؟

(۶) کیا تراویح کیلئے جز لازم ہیں؟

(۷) ان کو ترک کرنے پر اعتراض کرنا اور اس رواج کو برقرار رکھنے پر اصرار کیسا ہے ؟

(۸) ان کے بغیر تراویح کو نامکمل سمجھنا کیسا ہے؟

(۹) کیا کوئی خاص تسبیح منقول ہے ؟

(۱۰) اگر کوئی دعا منقول ہے تو اس کو بلند آواز سے یاآہستہ پڑھیں ؟

(۱۱) ہر چار رکعت کے بعد دعا کرنا کیسا ہے ؟ کیا ہر ترویحہ میں دعا ضروری ہے یا اخیر میں ایک مرتبہ کرنا کافی ہے؟

ھــوالــمـصــوب:

۱-نماز تراویح کے ہر ترویحہ کے بعد خاص طرح کی دعائیں پڑھنا اور اس کو ہر شخص کیلئے لازم کردینا شرعاً درست نہیں ہے، بلکہ بدعت ہے ۔ فقہاء کرام نے ہر ترویحہ کے بعد بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے اور اس میں چاہے تو خاموش بیٹھے رہیں یا تسبیح وتحمید کریں اس طرح کی خاص دعائیں نہ صحابہ کرام سے ثابت ہیں اور نہ ہی تابعین وتعامل سلف سے ثابت ہیں (۱)

۲- ان تسبیحات کو ترک کردینے پر اعتراض کرنا اور اختلافات پیدا کرنا اس کو جاری رکھنے کے

(۱)ویستحب الجلوس بین الترویحتین قدر ترویحۃ وکذا بین الخامسۃ والوتر ثم ھم مخیرون فی حالۃ الجلوس إن شاؤا سجدوا وإن شاؤا قعدوا ساکتین…… ۔الفتاویٰ الہندیہ، ج۱،ص:۱۱۵

لئے مصر رہنا شرعاً درست نہیں۔ اس سے احتراز لازم ہے۔

۳-ردالمحتار میں ایک دعا منقول ہے وہ یہ ہے:

قولہ ’’بین تسبیح‘‘ قال القھستانی: فیقال ثلاث مرات سبحان ذی الملک والملکوت……نسألک الجنۃ ونعوذ بک من النار(۱)

اس کو بھی آہستہ انفراداً پڑھیں نہ کہ ایک ساتھ پڑھیں۔

تحریر: محمد طارق ندوی     تصویب:ناصر علی ندوی