جھوٹی گواہی دینے والے کی امامت

مشتبہ جملہ کہنے والے کی امامت
نومبر 3, 2018
امام سے مقتدی ناراض ہوں
نومبر 3, 2018

جھوٹی گواہی دینے والے کی امامت

سوال:مسجد موقوفہ محمد بخش ۱۱۲/۶ بینا جھابرکانپور کی کچھ آراضی آتی ہے جس پر شمس الدین مرحوم کے پسر غلام مصطفی قابض ہیں، اور یہ زمین راجہ رام پانڈے کو بیچ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ۱۹۹۵؁ءمیں مسجد کی طرف سے راجہ رام کو زمین خریدنے اور غلام مصطفی وغیرہ کو زمین بیچنے سے روکا گیا اور سول جج کی عدالت سے اسٹے لے کر مقدمہ کیا گیا اور مقدمہ چل رہا ہے، مسجد کی طرف سے مقدمہ کی پیروی صابر حسین کررہے ہیں،صابر حسین مسجد خدا کے متولی، مقبول حسین کے فرزند ہیں، ان کی حیات میں مسجد کا سارا کام صابر حسین انجام دیتے تھے ان کو مسجد سے متعلق تمام حالات سے واقفیت ہے۔

۱-پیش امام نے جھوٹا حلف نامہ داخل کیا ہے، مسجد ہذا میں ان کی امامت درست ہے یا نہیں؟

(۱) وجملتہ أن من کان من أھل قبلتنا ولم یغل فی ھواہ حتی یحکم بکفرہ تجوز الصلاۃ خلفہ وتکرہ۔ البحرالرائق،ج۱،ص:۶۱۱

۲-ایسی حالت میں علیحدہ مدرسہ میں جماعت سے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟

۳-مقتدیوں کی ناراضگی، جھوٹا حلف نامہ داخل کرنا بعض کا مسجد چھوڑدینا ، بعض کا علیحدہ نماز پڑھنا ایسی صورت میں مولانا سمیع ﷲ صاحب کو مسجد ہذا میں امامت کرنا درست ہے یا نہیں؟

ھـو المـصـوب

۱-اگر واقعہ صحیح ہے تو ایسے امام کی امامت مع الکراہت درست ہوگی(۱)

۲-الگ جماعت نہ قائم کی جائے، آپس میں اتحاد واتفاق قائم رکھا جائے، حکمت عملی سے اگر ممکن ہو تو امامت سے امام کو معزول کردیا جائے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو مقتدیوں کی نماز میں کوئی کراہت نہ ہوگی۔

۳-ایسا امام جس سے لوگ دینی مقصد کے تحت نفرت کرتے ہیں، اپنے طور پر امامت ترک کردینا چاہئے۔ حدیث میں ایسے امام کے بارے میں وعید آئی ہے(۲)

تحریر: محمدمستقیم ندوی               تصویب: ناصر علی ندوی