انتقال کے بعدقضاء نمازوروزہ کافدیہ

انتقال کے بعدقضاء نمازوروزہ کافدیہ
نومبر 10, 2018
نوافل میں غلطی پر سجدۂ سہو
نومبر 10, 2018

انتقال کے بعدقضاء نمازوروزہ کافدیہ

سوال:ایک شخص بوجہ شدید اور طویل علالت کے بقضاء الٰہی فوت ہوگیا، آخری اوقات میں متوفی کی دس سال کی نمازیں اور ایک سال کے روزے

(۱)إذا مات الرجل وعلیہ صلوات فائتۃفأوصی بأن تعطی کفارۃ صلواتہ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم یوم نصف صاع من ثلث مالہ وإن لم یترک مالا یستقرض ورثۃ نصف صاع و یدفع إلی مسکین ثم یتصدق المسکین علی بعض ورثۃ ثم لیتصدق ثم وثم حتی یتم لکل صلاۃ ماذکرنا۔ الفتاویٰ الہندیۃ،ج۱،ص:۱۲۵

(۲)امدادالفتاویٰ ج۱،ص:۵۹

قضاء ہوگئے۔ اب اس کے وارثان اس کی قضاء نمازوں اور روزوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو وہ کتنا ادا کریں اور کہاں دیا جاسکتاہے؟

ھــوالــمـصــوب:

ایک نماز کا اور ایک روزہ کا فدیہ ایک کلو چھ سو گرام گیہوں ہے(۱)لہٰذا اسی حساب سے وتر شامل کرکے یومیہ چھ نمازوں کے حساب سے دس سال کی نمازوں کا اور ایک ماہ یعنی تیس دن کے روزوں کا فدیہ ادا کریں۔ کسی غریب محتاج کو نصاب زکاۃ کی مالیت سے کم دے سکتے ہیں۔ اس طرح متعدد ضرورت مندوں کو پوری مقدار ادا کریں۔ اگر اعزہ واقرباء میں کوئی محتاج ہے تو اس کو دینا بہتر ہے۔

تحریر:ساجد علی      تصویب:ناصر علی ندوی