گیارہ ستمبر کے واقعہ پر ایک آیت سے غلط استدلال

زمین متحرک ہے یا ساکن؟
اکتوبر 30, 2018
قرآن پاک کی بے حرمتی کا انجام
اکتوبر 30, 2018

گیارہ ستمبر کے واقعہ پر ایک آیت سے غلط استدلال

سوال :قومی تنظیم کی ایک خبر میں گیارہ ستمبر کے واقعہ کو قرآن سے اس طرح ثابت کیا ہے کہ یہ واقعہ گیارہ ستمبر کو پیش آیا ، یعنی مہینہ کا گیارہواں دن اور سال کا نواں مہینہ اور جو عمارت گری ہے وہ 11۰ منز ل کی تھی ،اس تعداد یعنی 11،۹،11۰کو سامنے رکھئے پھر گیارہوں پارہ کی نویں سورہ کی آیت نمبر 11۰دیکھئے، ﷲ تعالی فرماتا ہے: ’’لا یزال بنیانہم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبہم الاأن تقطع قلوبہم وﷲ علیم حکیم (سورہ نور :11۰)اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گیارہ ستمبر ۲۰۰1 ء کو نیویارک میں پیش آنے والا واقعہ کی پیشن گوئی قرآن نے چودہ سو سال پہلے کردی تھی۔کیا قرآن کریم سے ا س طرح کا استدلال درست ہے ؟ ِ

ھوالمصوب:

جس طرح کا قرآن مجید کی ایک آیت سے استدلال کیا گیا ہے اسے’’ کھلواڑ ‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا ،ﷲ کی پناہ مانگنی چائیے ،آیت 11۰سے 11۰منزلہ عمارت ڈھانے کا ثبوت نئے فتنہ کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ ہے ،اس طرح کے بے بنیاد طور طریقوں سے غلط باتیں درست ٹھہرائی جا سکتی ہیں ،اسے استدلال نہیں قرآن مجید سے کھلواڑ کہا جانا چائیے ۔ تحریر:محمد برہان الدین سنبھلی