متفرق دنوں میں حیض آئے

ناپاکی کی حالت میں مسجد سے گزرنا
نومبر 1, 2018
ممتدۃ الطہرکا حکم
نومبر 1, 2018

متفرق دنوں میں حیض آئے

سوال:۱-کسی عورت کی تاریخ مقرر نہیں ہے، اکثر پانچ سات آٹھ دن بڑھ جاتے ہیں، اور عادت سات دن کی ہے، کبھی کبھی تاریخ پر بھی حیض آجاتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کچھ مہینوں سے تاریخ پر خون بہت ہی تھوڑی سی مقدار میں دکھائی دے گا، تاریخ سے سات آٹھ دن تک پانی میں خون کی پھٹکی یا گندہ پانی آتا رہے گا اور آٹھویں نویں دن عادت کے مطابق حیض آنا شروع ہوگا ، اگر تاریخ سے جوڑیں تو سترہ اٹھارہ دن ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں حیض ہوگا،یا استحاضہ ہوگا؟

۲- اگر صرف دن میں خون کی پھٹکی نظر نہیں آئے تین چار دن تک ایسا ہی ہو اور دن میں کسی کسی وقت یا پورے دن صاف پانی آئے اور رات کے صرف کسی وقت پانی میں خون کی جھلک دکھائی پڑے، اس کے بعد صاف پانی آنے لگے، اس کے آٹھ دن بعد پھر اسی طرح آنا شروع ہوا، شروع کے ایام میں دن کے کسی میں رات کے کسی حصہ میں آتا رہا پھر آٹھویں، نویں دن عادت کے مطابق خون آنا شروع ہوا، سات آٹھ تک آتا رہا، دوسرے مسئلہ میں بھی خون پچھلے مہینہ کی جس تاریخ پر آیا تھا اسی تاریخ پر اگلے مہینہ دکھائی دیا اور چاردن تک ایسا رہا۔ اس مہینہ تقریباً پورے مہینہ پانی میں خون کا تار ایسا پھٹکی کبھی صاف پانی آتا تھا اور تاریخ میں بھی ایسا ہوا تھا، پاکی کی علامت کیا ہے ، وضاحت سے بتادیں۔ اس حالت کی وجہ سے نماز روزوں میں خلل پڑتا ہے؟

ھــوالــمـصــوب:

۱-دریافت کردہ صورت میں سات دن جو عادت کے ہیں وہ ایام حیض ہیں۔ اس کے علاوہ جو دم نظر آئے وہ دم استحاضہ ہے۔ دوسری صورت میں بھی جو آٹھ نو دن عادت کے ہیں وہ ایام حیض ہیں، اس کے علاوہ دم استحاضہ ہے۔

فتح القدیر شرح ہدایہ میں وضاحت ہے:

لورأت عادتھا وقبلھا وبعدھا مایزید الکل علی عشرۃ فعادتھا حیض فقط، ومن الرد الیٰ العادۃ، إمرأۃ قالت عادتی من الحیض عشرۃ وفی الطھر عشرون والآن أری الطھر خمسۃ عشر ثم أری الدم تؤمر بالصلٰوۃ والصوم الیٰ تمام العشرین ثم تترک فی العشرۃ (۱)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

فان رأت بین طھرین تامین دماً علیٰ عادتھا بالزیادۃ أو النقصان أو بالتقدم أو التأخر أو بھمامعاً انتقلت العادۃ الیٰ أیام دمھا حقیقتاً کان الدم أو حکمیا، ھذا اذا لم یجاوز العشرۃ فإن جاوزھا فعروفتھا حیض ومارأت علیٰ غیرھا استحاضۃ فلا تنتقل العادۃ ھکذا فی محیط السرخسی(۲)

مزید تفصیلات دیکھنا ہو تو موسوعۃ فقہیہ میں دیکھ لیں(۳)

۲- دم حیض کی علامت یہ ہے کہ وہ خالص سفید کے علاوہ رنگ کا ہو یعنی سرخ، کالا، زرد، سبز، گدلا اور مٹیالہ ہو:

ومنھا أن یکون علیٰ لون من ألوان الستۃ: السواد، الحمرۃ، والصفرۃ، والخضرۃ ، والکدرۃ والتربیۃ (۴)

کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن دم ان رنگوں کا لحاظ حیض کیلئے ہوگا۔

تحریر:محمد ظفرعالم ندوی  تصویب:ناصر علی ندوی