پرانی قبروں میں نئے مردوں کو دفن کرنا

پرانی قبروں میں نئے مردوں کو دفن کرنا
نومبر 11, 2018
قبرپرچونا وغیرہ کرانا
نومبر 11, 2018

پرانی قبروں میں نئے مردوں کو دفن کرنا

سوال:۱-خراب شدہ قبروں کی مرمت، درستگی کے بعد دوسری قبروں کے

(۱) قال فی الفتح: ولا یحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلی الأول فلم یبق لہ عظم إلا ان لایوجد، فتضم عظام الأول ویجعل بینھما حاجز من تراب۔ ردالمحتار،ج۳،ص:۱۳۸

بنانے کی مدت کیا ہے؟

۲-پرانی قبروں کی لکڑیاں نکالنے اور ان کی فروختگی کی اجازت ہے یا نہیں؟

۳-مسلم ہجڑوں کی لاش مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے؟

۴-قبروں کو پختہ بنوانا اور لوہے کے جنگلے لگوانا جائز ہے یا نہیں؟

ھــوالـمـصـــوب:

۱-جانوروں کے کھودنے یا بارش کی وجہ سے قبریں دھنس جائیں تو قبروں کو کھودے بغیر ان کی معمولی مرمت کی جاسکتی ہے، یعنی قبروں کے اوپر کچھ مٹی ڈال کر برابر کرنے کے بعد گارے سے لیپ دینا درست ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

وإذا خربت القبور فلابأس بتطیینھا کذا فی التاتارخانیۃ وھو الأصح وعلیہ الفتویٰ(۱)

لیکن قبروں میں مدفون مردوں کے جسم کا کوئی حصہ باقی ہے تو اس طرح مٹی ڈالنا درست نہیں ہے کہ جس سے جسم انسانی دب جائے کیوں کہ یہ مردوں کی بے حرمتی کا سبب ہے۔ ہاں اگر جسم کا کوئی حصہ باقی نہ رہا ہوتو قبر کو ہموار کرنا صحیح ہے، اگر مردہ کا جسم مٹی ہوچکا ہو تو اس جگہ دوسری قبر بنانا بھی جائز ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

ولوبلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ وزرعہ والبناء علیہ (۲)

۲-اگر لکڑیاں قبروں کے اندر لگی ہوں، تو ان کا نکالنادرست نہیں ہے،کیوں کہ اس صورت میں قبر کھودنے کی نوبت آئے گی جو درست نہیں ہے، فقہاء نے نبش قبر کو حرام لکھا ہے، مزید یہ بھی صراحت کی ہے اگر میت غسل ونماز جنازہ کے بغیر دفن کردی گئی پھر اس کی خبر ہوئی تو بھی قبر کھودنے کی اجازت نہیں ہے۔ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:

إذا دفن بلا غسل وصلاۃ أو وضع علیٰ غیر یمینہ أو إلی غیرالقبلۃ فانہ لا ینبش(۳)

(۱) الفتاویٰ الہندیہ ج۱،ص:۱۶۶    (۲)الفتاویٰ الہندیہ،ج۱،ص:۱۶۷

(۳) ردالمحتار،ج۱،ص:۸۳۹

دفن کے بعد قبرمیں سے لکڑیاں نکالنا اور فروخت کرنا درست نہیں ہے۔

۳-مسلم ہجڑوں کی لاش مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کی جاسکتی ہے۔

۴-قبروں کو پختہ کروانا جائز نہیں ہے:

نھی رسول اﷲ ﷺ أن تجصص القبور وأن یکتب علیھا وأن یبنی علیھا وأن توطأ(۱)

کتب فقہ میں پختہ قبر کی ممانعت وکراہت تحریمی صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ قبر کو جنگلے سے گھیرنا درست نہیں ہے۔

تحریر: محمدظفرعالم ندوی  تصویب:ناصرعلی