قبر کے کشادہ ہونے کا مطلب

حضرات حسنینؓ کو’ سیدا شباب اہل الجنۃ‘ کہنا
اکتوبر 30, 2018
جنت کے طبقات
اکتوبر 30, 2018

قبر کے کشادہ ہونے کا مطلب

سوال :کتابوں میں آیا ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں عذاب ہوتا ہے ،اور اعمال کے مطابق قبر کشادہ یا تنگ کر دی جا تی ہے ،اور یہ بھی آیا ہے کہ روح عالم برزخ میں چلی جا تی ہے ،جسم قبر میں رہ جا تا ہے ،اور سڑ گل کر مٹی میں مل جا تا ہے، جب جسم سڑ گل گیا اور روح عالم برزخ میں چلی گئی تب عـذاب کہاں ہوتا ہے ؟عالم برزخ میں اگر ہوتا ہے تو جو یہ لکھا ہے کہ قبر کشادہ کردی جا تی ہے اور کھڑکی کھول دی جاتی ہے تو کیا قبر سے واسطہ ختم ہوگیا ،اگر قبر میں ہوتا ہے تو کیا روح اس وقت ہوتی ہے ؟ ِ

ھوالمصوب:

اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح عالم برزخ میں چلی جاتی ہے، عالم برزخ دنیا کے علاوہ مستقل ایک عالم ہے، قبردراصل اسی عالم برزخ کی تعبیر ہے، عالم برزخ میں انسان کے ساتھ سزا وجزا کا جومعاملہ ہوتا ہے، اسی کی تعبیر قبروسیع کردی گئی یاقبر تنگ کردی گئی ہے۔گویا عالم برزخ میں نیک اعمال کا جوبدلہ ملتاہے اس کو قبر وسیع کردینا کہاجاتا ہے اور اعمال بد کاجو بدلہ ملتا ہے اس کو ’قبر تنگ کردینا‘ کہاجاتا ہے(1) ِ
تحریر :محمد ظفر عالم ندوی

تصویب : ناصر علی ندوی