غلط مسائل بتانے و الے اوربداخلاق امام کی امامت

قاتل کے پیچھے نماز
نومبر 3, 2018
امام سے متعلق متفرق سوالات
نومبر 3, 2018

غلط مسائل بتانے و الے اوربداخلاق امام کی امامت

سوال:ہمارے قصبہ محمودآباد کی مرکز کی مسجد کے امام صاحب جو اپنے کو ایک ادارہ کا فارغ التحصیل کہتے ہیں لیکن ان کے اخلاق وکردار اور تعلیم میں بعدالمشرقین نظر آتا ہے ان کا حال کچھ اس طرح سے کہ سیاسی مسائل میں حصہ لیتے ہیں اور قرآن وحدیث کے صریح خلاف مسئلہ بتاتے ہیں۔

(۱) عن جبیربن مطعم أن رسول اﷲ ﷺ قال: لیس منا من دعا إلی عصبیۃ ولیس منا من قاتل علی عصبیۃ ولیس منا من مات علی عصبیۃ۔ سنن أبی داؤد، کتاب الادب، باب فی العصبیۃ، حدیث نمبر:۵۲۱

(۲)سنن ابن ماجۃ ،کتاب الزہد،باب ذکر التوبۃ،حدیث نمبر:۴۳۹۱

بیوہ عورتوں کے گھروں میں بلااجازت وبے پردہ گھستے چلے آتے ہیں۔ مطلقہ مغلظہ کو حلالہ کے بغیر شوہر کے ساتھ رہنا ثابت کرتے ہیں۔ طلاق ثلاث کے بعد عورت کے چاہے جتنے بچے ہوں پہلے ہی شوہر سے نسب ثابت کرتے ہیں۔ اسقاط حمل کو جائز کہتے ہیں۔ چاہے کتنے ہی دنوں کا حمل ہو اور وہ خود بھی یہ عمل کرتے ہیں۔ قرآن شریف غلط پڑھتے ہیں اور نمازیوں کی بڑی تعداد ان سے نفرت کرتی ہے اور ان کے مقابلہ میں ان سے بہتر لوگ امام کے لئے تیار ہیں ۔

تو اب کیا اوپر مذکور تمام صورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امام کو ہٹاسکتے ہیں۔

نوٹ:مطلقہ مغلظہ کو زمین وجائیداد میں حصہ دار قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں جب ان کو ندوہ کے فتویٰ دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایسے فتوے بہت آتے ہیں۔ آپسی رنجش کے باعث نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کرتے ہیں۔

ھــوالــمـصــوب:

بشرط صحت واقعہ امام صاحب کے مذکورہ اعمال ناجائز وفاسقانہ ہیں اور جو مسائل شریعت میں بغیر کسی دلیل شرعی کے اپنی من مانی کرے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے،ایسے شخص کو امام نہ بنایا جائے(۱) البتہ اگر پہلے سے امامت کررہا ہے تو ایسی صورت میں حکمت عملی کے ساتھ اس کو امامت سے برطرف کردیا جائے۔ ہاں یہ ملحوظ رہے کہ کسی قسم کا اہل محلہ کے درمیان کوئی آپسی خلفشار نہ ہونے پائے۔

تحریر:ساجد علی      تصویب:ناصر علی ندوی