امام سے متعلق متفرق سوالات

امام سے متعلق متفرق سوالات
نومبر 3, 2018
مسجد میں چوری کی بجلی استعمال کرنا
نومبر 3, 2018

امام سے متعلق متفرق سوالات

سوال:زید موجودہ وقت میں درج ذیل حقائق کی روشنی میں امام عیدین کے منصب پر فائز ہے۔

۱-یہ کہ زید نے اپنے سیاسی اثر ورسوخ کو بروئے کار لاکر اپنا نام وقف بورڈ سے امام عیدین درج کرالیا ہے، عوام الناس (اکثریت) امامت کے خلاف تھی ردعمل کے طور پر مسلمانان قصبہ میں زبردست انتشار واختلاف پیدا ہوگیا اور مختلف مساجد میں نماز عیدین ادا کی جانے لگیں۔

۲-یہ کہ قصبہ میں اہل سنت کے دومدارس ہیں جس میں قابل قدر باصلاحیت ذی علم امامت کے اہل اور حقدار عالم، حافظ، قاری موجود ہیں ، مدرسوں سے حفاظ وقراء کی کثیر تعداد میں فراغت ہوتی ہے۔

۳-یہ کہ زید کسی مدرسہ سے سند یافتہ عالم، حافظ، قاری نہیں ہے، فرضی سند بنواکر عوام الناس کوگمراہ کررہا ہے جو باعث انتشار ہے۔

۴-یہ کہ زید امامت کو اپنا موروثی حق سمجھتا ہے، جبکہ وہ بالکل سیاسی آدمی ہے اور وہ ہر فعل کا مرتکب ہوتا رہا ہے جو بظاہر سیاسی لوگوں کے فعل ہوتے ہیں جیسے اینٹ بھٹہ کے افتتاح کے وقت پنڈت سے ناریل پھوڑ وانا، لال جھنڈا نصب کروانا، مندروں میں جاکر ہاتھ جوڑنا، چندن لگانا، مجسموں پرمالا ڈالنا، ہاتھ جوڑنا، پیشانی خم کرنا اور پجاریوں کی سیاسی مفاد کے لئے امداد کرنا وغیرہ۔

۵-یہ کہ زید نے ایک ملی امدادی سوسائٹی قائم کی تھی جس میں بلاسودی قرض دینے کے لئے بہت سے لوگوں کی امانتیں جمع کرواکر ضبط کرلیں اور خرد برد کردیں جو ہنوز واجب الادا ہیں۔ غبن کا الزام سوسائٹی کے ایک فرد پر عائد کردیا جو بہتان کو برداشت نہ کرکے خودکشی کرلی۔

۶-ستم بالائے ستم یہ ہے کہ زید امام عیدین اپنے مالی فائدہ کے لئے ونے کٹیار جو بابری مسجد کی شہادت میں اہم رول ادا کیا تھا اس کے پیر پکڑلئے اور دادرسی کی فریاد کی۔

۷-یہ کہ زید کپڑے کا تاجر ہونے کے ساتھ ساتھ صرافہ کے کاروبار میں بھی شرکت کرتا ہے جہاں پر گروی رکھ کر سود کا کام عمل میں لایا جاتاہے۔

۸-یہ کہ زید سیاسی حصول مقصد کے (کامیابی کے لئے) نگرپریشد کے چناؤ میں امیدوار کی حیثیت سے اپنے بڑے پوسٹر میں فوٹو ہورڈنگ بنواکر چوراہوں پر لگوائے۔

۹-یہ کہ زید کے اوپر متعدد مقدمات مختلف دفعات پر مشتمل عدالت میں زیر سماعت ہیں، زید پر قتل،رہزنی،آتشزنی جیسے سنگین الزامات ہیں۔

مذکورہ بالا صورت میں دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید کا امام عیدین ہونا، عید کی نماز ادا کرنا، مذہبی پیشوا ماننا، کاروباری تعلق رکھنا، افطار ودیگر تقاریب میں شرکت کرنا ازروئے شرع جائز ودرست ہے؟ قوم مسلم کو راہ عمل اختیار کرنے نیز پیدا شدہ نفاق وانتشار رفع کرنے کے لئے حکم صادر فرمائیں۔

ھـو المـصـوب

بشرط صحت واقعہ مذکور امام اگر مذکورہ ذکر کی گئی باتوں کا حامل ہے تو اس کی امامت مکروہ ہوگی(۱) زید کو فوراً مذکورہ معاملات سے توبہ کرنی چاہئے اور صحیح اسلامی زندگی گزارنی چاہئے۔

آپ کے استفسار سے اندازہ ہوتا ہے کہ عیدین کی امامت سے ایسے شخص کو ہٹانا آسان نہیں ہے، بلکہ مزید انتشار کا اندیشہ ہے۔ لہذا اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لیں(۲) اور دل سے اس کی مذکورہ

(۱) وجملتہ أن من کان من أھل قبلتنا ولم یغل فی ھواہ حتی یحکم بکفرہ تجوز الصلاۃ خلفہ وتکرہ۔ البحرالرائق،ج۱،ص:۶۱۱

(۲) وذکرالشارح وغیرہ أن الفاسق إذ تعذر منعہ یصلی الجمعۃ خلفہ وفی غیرھا ینتقل إلی مسجد آخر۔ البحرالرائق،ج۱،ص:۶۱۱

غیرشرعی حرکتوں کو براسمجھیں، حدیث میں ہے:

من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانہ فإن لم یستطع فبقلبہ وذلک أضعف الإیمان (۱)

تحریر:مسعود حسن حسنی    تصویب: ناصر علی ندوی