قرآن و دینی کتابیں چھونے کے لئے وضو

قرآن و دینی کتابیں چھونے کے لئے وضو
اکتوبر 31, 2018
تفاسیر کے مطالعہ کے لئے وضو
اکتوبر 31, 2018

قرآن و دینی کتابیں چھونے کے لئے وضو

سوال:آپ کا فتویٰ ۲۱۳۹۶-۱۵۴۲۷ موصول ہوا، مگر میرا سوال یہ تھا کہ قرآن کو چھونے یا تلاوت کیلئے وضو فرض ہے یا نہیں؟ یہاں مقامی مسجد کے امام صاحب کہتے ہیں کہ وضو فرض ہے اور وہ سورۂ واقعہ آیت نمبر ۷۹ ’’لایمسہ الاّ المطھرون‘‘ پیش کرتے ہیں، لیکن اس آیت کو سیاق وسباق سے الگ کرکے تو یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے ، مگر جس سیاق وسباق کے ساتھ وہ قرآن میں ہے اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا، اسی لئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس کا ترجمہ ’بجز فرشتوں کے کوئی نہیں چھوتا‘ کیا ہے؟۔پھر کیا حضور ﷺ کا کوئی قول ایسا ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ بغیر وضو قرآن چھونا حرام ہے یا صحابہ کرام ؓ میں سے کسی کا قول ایسا ہے کہ اس آیت میں وضو کا حکم دیا گیاہے؟

ھــوالــمـصــوب:

قرآن پاک چھونے کے لئے وضو فرض ہے، زبانی تلاوت کے لئے وضو ضروری نہیں ہے: لایمسہ إلاالمطھرون(۱)اور آپ کے امام صاحب اس آیت سے جو استدلال کرتے ہیں وہ صحیح ہے، کیوں کہ اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں،پہلا یہ کہ المطھرون سے مراد فرشتے ہیں تو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ عندﷲ جو قرآن ہے یعنی لوح محفوظ اس کو بجز فرشتوں کے کوئی نہیں چھوتا (۲)جیسا کہ حضرت اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں(۳) اوردوسری آیت سے بھی اس کی تفسیر ہوتی ہے:

کلا انہا تذکرۃ فمن شاء ذکرہ فی صحف مکرمہ مرفوعۃ مطھرۃ بأیدی سفرۃ کرام بررۃ(۴)

اور دوسرا قول یہ ہے کہ ’المطھرون‘ سے طاہر عن الحدث الأصغروالأکبرمراد ہیں(۵) یعنی قرآن مجید کو صرف وہی چھوسکتا ہے جو حدث اصغر اور اکبر سے پاک ہو، اس قول کی تائید موطأ کی روایت سے ہوتی ہے:

عن عبدﷲ بن أبی بکربن محمد عن عمرو بن حزم عن أبیہ قال:کان فی کتاب ﷲ الذی کتبہ رسول ﷲ ؐ لعمرو بن حزم أن لایمس القرآن إلاّ طاھر(۱)

اور دوسری حدیث بھی ہے

لایمس القرآن الا علی طھور(۲)

تحریر:محمد طارق ندوی      تصویب: ناصر علی ندوی