بئربالوعہ سے متعلق دوعبارتوں میں تطبیق

بورنگ کے قریب گندے پانی کا گڈھا
نومبر 1, 2018
کنویں میں آدمی یا جانور گرکر مرجائے؟
نومبر 1, 2018

بئربالوعہ سے متعلق دوعبارتوں میں تطبیق

سوال:زید نے ایک ہینڈپائپ لگوایا اور اسی کے قریب تقریباً چارہاتھ کی دوری پر بکر نے ایک پائخانہ بنوایا ہے۔ ہینڈپائپ اور پائخانہ کے درمیان ایک گلی ہے، جس میں ہینڈپائپ کا پانی اور پائخانہ کی غلاظت دونوں گرتی ہے۔ پانی اور غلاظت بہنے کاراستہ نہ ہونے کی وجہ سے بکر نے کہا کہ اسی گلی کے اندر ایک پائپ زمین کے اندر لگوایا جائے جس میں ہینڈپائپ اور پائخانہ کا پانی دونوں اسی پائپ میں گر جائے گا، جس سے پریشانی ختم ہوجائے گی۔اس پر زید نے کہا کہ اس طریقہ پر ہینڈپائپ کا پانی خراب اور متاثر ہوجائے گا۔ جس کی وجہ سے ایسے پائپ کا یہاں لگوانا قطعاً درست نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں راقم الحروف نے فقہ کی کتابوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’من حضر بئرا فلہ حولھا اربعون ذراعاً‘۔ صاحب شرح وقایہ اسی کے تحت وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس کنوئیں کے پاس دوسرا کنواں یانجاست والا کنواں کھودے تو صاحب بئر اول کو حق منع حاصل ہے کہ دوسرا کنواں یا بئر بالوعہ نہ کھودنے دے ، پانی کے جذب کرنے کی وجہ سے یا نجاست کے متاثر نہ ہونے کے سبب پر شرح وقایہ جلد اول، صفحہ۱۸ مکتبہ تھانوی برحاشیۂ عالمگیریہ ج۴،ص:۴-۳، فتاویٰ بزازیہ کی عبارت یہ ہے کہ ’والتعویل علی نفوذ الاثر‘ اور عالمگیری جلد اول ،ص:۲۰ کی عبارت کا بھی یہی ماحصل ہے۔ ان عبارتوں کی روشنی میں مندرجہ ذیل شبہات کو رفع کریں۔

۱-التعویل علی نفوذ الأثر کی اقل مقدار اور اکثر مقدار کا تعین کرتے ہوئے ہینڈپائپ اور نجاست والے پائپ کے مابین اقل مقدار واکثر مقدار کا تعین کریں۔

۲-اس حدیث مذکورہ سے صاحب شرح وقایہ حریم بئر کی وضاحت ہرچہار طرف دس ہاتھ کرتے ہیں، جیسا کہ عالمگیریہ کی بعض عبارت مصرح ہے اور صاحب ہدایہ حریم بئر پر چہار اطراف چالیس ہاتھ سے کرتے ہیں۔ کما قال صاحب الھدایۃ ھوالصحیح۔ فکیف التطبیق بین القولین۔

۳- بئر ماء اور بالوعہ کی مسافت کا تعین ارجح طریقہ پر کریں۔

۴-اس فتوے کے نہ ماننے والے کا کیا حکم ہے؟

ھــوالــمـصــوب:

۱-التعویل علی نفوذ الأثر کی اقل مقدار اور اکثر مقدار کی کوئی تعیین نہیں ہے، اصل چیز نجاست کا سرایت کرنا ہے۔ مثال کے طورپر اگر بئر بالوعہ دس ہاتھ کی دوری پر کھودی گئی ہے اور زمین ایسی نرم ہے کہ نجاست کا اثر اس کنوئیں میں محسوس ہورہا ہے تو دس ہاتھ کی دوری پر بھی بئر بالوعہ کا کھودنا درست نہ ہوگا، اور اگر زمین ایسی سخت ہے کہ فقط ایک ہاتھ کی دوری پر بھی نجاست کا اثر ظاہر نہیں ہورہا ہے تو ایک ہاتھ کے فاصلے پر بھی بئر بالوعہ کا کھودنا درست ہے۔ درمختار میں ہے:

الفرع: البعد بین البئر والبالوعۃ بقدر مالایظھر للنجس أثر(۱)

(قولہ البعد)اختلف فی مقدار البعد المانع من وصول النجاسۃ البالوعۃ إلی البئر،ففی روایۃ خمسۃ أذر ع وفی روایۃ سبعۃ، وقال الحلوانی: المعتبر الطعم أواللون أوالریح فإن لم یتغیر جاز وإلا لا ولوکان عشرۃ أزرع وفی الخلاصۃ والخانیۃ: والتعویل علیہ وصححہ فی المحیط بحر، والحاصل: أنہ یختلف بحسب رخاوۃ الأرض وصلابتھا ومن قدّرہ اعتبر حال أرضہ(۱)

بئرالماء إذا کانت بقرب البئر النجسۃ فھی طاھرۃ مالم یتغیر طعمہ أولونہ أوریحہ کذا فی الظھیریۃ ولایقدر ھذا بالذرعان حتی إذا کان بینھما عشرۃ أذرع وکان یوجد فی البئر أثر البالوعۃ فماء البئر نجس وإن کان بینھما ذراع واحد ولا یوجد أثر البالوعۃ فماء البئر طاھر کذا فی المحیط وھوالصحیح ھکذا فی محیط السرخسی(۲)

۲-دونوں نے اپنے اپنے تجربات کی بنیاد پر مذکور حدبندی کی ہے، جیسا کہ بہت سارے فقہاء نے بھی اپنے اپنے تجربات کی بنیاد پر مختلف باتیں کہی ہیں، کسی نے پانچ ہاتھ کہا ہے، کسی نے سات ہاتھ، اسی وجہ سے علامہ شامیؒ نے کہا ہے کہ فقہاء کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ زمین کی سختی ونرمی کی بنیاد پر دوری کا حکم مختلف ہوگا:

والحاصل أنہ یختلف بحسب رخاوۃ الأرض وصلابتھا ومن قدرہ اعتبرحال أرضہ(۳)

۳-راجح قول یہ ہے کہ اتنا فصل ہوکہ جو رنگ، بو، مزہ کے پہنچنے سے مانع ہو اور یہ زمین کی سختی ونرمی کے تفاوت سے متفاوت ہوتا ہے، اور اندازہ متعین کرنے والوں کے اقوال کو بھی اسی پر مبنی کہا جائے گا کہ انہوں نے اپنی اپنی زمین کے اعتبار سے اندازہ بتلایا تو اس پر سب اقوال باہم مطابق ہوجائیں گے اور اس کا معیار اہل تجربہ کا قول ہے۔

۴-اگر کوئی شخص دارالافتاء کے فتویٰ کو نہ مانے تو اس کو حکمت عملی سے سمجھانا چاہئے اور اس سلسلہ میں ایسے افعال سے بچنا چاہئے جو باہم مسلمانوں کے درمیان انتشار کا سبب بن جائیں۔

تحریر: محمدمستقیم ندوی               تصویب:ناصر علی ندوی