عارضی اقامت سے متعلق سوالات

حج میں قصرو اتمام کا مسئلہ
نومبر 10, 2018
عارضی اقامت سے متعلق سوالات
نومبر 10, 2018

عارضی اقامت سے متعلق سوالات

سوال:زید اپنے گھر سے دور ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ایک گاؤں میں مستقل سرکاری ملازم ہے، اس کی ملازمت عارضی نہیں ہے اور اسی گاؤں

(۲-۱) فالذی یصیر بہ المقیم مسافرا نیۃ مدۃ السفر و الخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثۃ أشیاء……۔بدائع الصنائع ج۱،ص:۲۶۱

(۳)وأما بیان مایصیر المسافر بہ مقیما فالمسافر یصیر مقیما بوجود الإقامۃ والإقامۃ تثبت بأربعۃ أشیاء:أحدھا صریح نیۃ الإقامۃ وھو أن ینوی خمسۃ عشر یوما فی مکان واحد صالح للإقامۃ۔بدائع الصنائع ج۱،ص:۲۶۸

میں اس نے بنیت توطن گھریلو سامان کے کرایہ کے مکان میں کامل طور پر رہائش بھی اختیار کرلی ہے۔ واضح ہوکہ زید کی ملازمت میں حکومت کی طرف سے یہ شرط ہے کہ وہ لازمی طور پر اپنے ہیڈکوارٹر یعنی تقرری والی جگہ پر ہی رہے گا اور چھٹی والے دنوں میں بھی اپنے افسر کی اجازت کے بغیر کہیں باہر نہیں جاسکتا اور اگر وہ اجازت کے بغیر کہیں چلاگیا تو اس کا ذمہ دار خود وہ ہوگا، زید نے ان شرائط کو قبول کرکے ہی وہاں کامل رہائش اختیار کی ہے اور جب تک ملازمت رہے تب تک سکونت اور توطن کی نیت کے ساتھ مع گھریلو سامان کے اپنے مقبوضہ مکان میں رہائش پذیر ہے۔ واضح ہوکہ اس گاؤں میں زید کی ملازمت کی مدت نہ صرف پندرہ دنوں سے زیادہ ہے بلکہ کئی سالوں پر مشتمل ہے اس طرح وہاں قیام کی مدت اور نیت بھی نہ صرف پندرہ دنوں پر بلکہ کئی سالوں پر مشتمل ہے۔

۱-جس وقت زید مذکورہ گاؤں میں مدت مذکورہ تک سکونت وتوطن کی نیت کے ساتھ رہائش پذیر ہورہا ہے اس وقت سے وہ اس گاؤں میں مقیم تصور کیا جائے گایانہیں؟

۲-جس گاؤں زید حکومت کی مذکورہ شرائط کے ساتھ ایک لمبی مدت تک کے لئے جو کہ پندرہ دنوں سے زیادہ کی سالوں پر مشتمل ہے سکونت کی نیت کے ساتھ مع گھریلو سامان کے الگ اپنے مقبوضہ مکان میں دائمی رہنے کی نیت کے تحت رہائش پذیر ہے اس گاؤں کی حیثیت زید کے لئے کیا ہوگی؟ وطن اصلی کی یا وطن اقامت کی؟

۳-زید کو ضرورت کے تحت اگر عشرہ میں وہاں سے ایک دو دن کے لئے عارضی سفر مسافت شرعی تک کرنا پڑے(اس کایہ سفرنقض وطنیت کی نیت سے نہیں ہوتا)تو کیا اس کا یہ عارضی سفرمبطل وطنیت ہوگا؟

ھــوالــمـصــوب:

۱-وطن بنانے کی صورت میں مقیم تصور کیا جائے گا(۱)

۲-اس گاؤں کووطن بنالیاہے اس لئے وہ وطن اصلی کے حکم میں ہے۔

۳-اس عارضی سفرسے وطن باطل نہ ہوگا(۲)

تحریر:ناصر علی