حج میں قصرو اتمام کا مسئلہ

حج میں قصرو اتمام کا مسئلہ
نومبر 10, 2018
حج میں قصرو اتمام کا مسئلہ
نومبر 10, 2018

حج میں قصرو اتمام کا مسئلہ

سوال:الحمد ﷲ ہم حجاج کرام کے قافلہ اور گروپ کو لے کر تقریباً ہرسال حج

(۱) الفتاویٰ الہندیہ،ج۱،ص:۶۷

(۲)ویأتی المسافر بالسنن إن کان فی حال أمن وقرار۔درمختار مع الرد، ج۲،ص:۶۱۳

(۳)ولا یحلق رأسہ ولا شعر بدنہ……ولا یأخذ من ظفرہ شیئا۔الفتاوی الہندیۃ،ج۱،ص:۲۲۴

(۴) سورۃ البقرۃ:۱۲۸

بیت اﷲ کے لئے جاتے ہیں یہاں لکھنؤ سے چل کر براہ دہلی جدہ اور پھر وہاں سے مکہ مکرمہ جانا ہوتا ہے، مکہ مکرمہ میں قیام کی مدت تقریباً پندرہ یوم ہوتی ہے گاہے کم بھی ہوتی ہے پھر اس کے بعد مدینہ طیبہ کیلئے روانگی ہوجاتی ہے، معلوم یہ کرناہے کہ ہمارے لئے اس سفر میں قصر صلوۃ کا کیا حکم ہے، جاتے ہوئے دہلی میں بھی ایک دن ٹھہرنا ہوتاہے اور کچھ دیر جدہ میں قیام ہوتا ہے، اس پورے سفر میں ہمارے لئے کہاں کہاں قصر کا حکم ہے، صرف سفر میں ہمیں قصر کرنا ہے، یا وہاں پہنچنے کے بعد بھی قصر کریں گے؟

ھــوالــمـصــوب:

مکہ مکرمہ پہنچنے تک پورے سفر میں قصر کریں گے (۱)اور مکہ مکرمہ میں پندرہ یا اس سے زائد دن ٹھہرنے کی صورت میں اتمام لازم ہوگااور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی صورت میں قصر لازم ہوگا، اسی طرح مدینہ منورہ جاتے ہوئے راستہ میں قصر کریں گے ، اگر وہاں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت ہو تو اتمام کریں گے، اور اگر اس سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو قصر کریں گے(۲)

تحریر: محمد ظفرعالم ندوی تصویب: ناصر علی ندوی