قرآن میں رکوع کا اعتبار

رکوع ،آیات اور سورتوں سے متعلق چند سوالات
اکتوبر 30, 2018
کیا کچھ سورتیں حضرت علیؓ کے پاس تھیں ؟
اکتوبر 30, 2018

قرآن میں رکوع کا اعتبار

سوال :قرآن مجید میں رکوع کا اعتبار کس طرح ہوتا ہے ،مثلا پارہ سیقول میں’’إن کنتم مؤمنیےن‘‘ پر ع ۳۲،۶،1۶ ہوتا ہے ،تو کیا فلما فصل طالوت ……سے وانک لمن المرسلین تک سترہواں رکوع ہوا ،لیکن اکثر پاروں میں ایسا نہیں لکھا جاتا ہے ،حقیقت کیا ہے ،اس کی وضاحت کیجئے ؟ ِ

ھوالمصوب:

قرآن شریف کے رکوعوں کا اعتبار اس طرح ہوتا ہے کہ مثلا پارہ سیقول میں ’’وان کنتم مؤمنین‘‘ پر (ع ۳۲،۶،1۶) سولہواں رکوع ختم ہوتا ہے ،اور ’’فلما فصل طالوت ‘‘سے تیسرے پارے کا پہلا رکوع شروع ہوتا ہے ،جو ’’إن ﷲ یفعل مایرید ‘‘ پر ختم ہوتا ہے ،اس سلسلہ میں یہ قاعدہ کلیہ ہمیشہ سامنے رہے کہ جہاں پر رکوع ختم ہوا وہاں سے اگلا رکوع شروع ہوجاتا ہے ،پہلے چاہے دوسرا پارہ ہی کیوں نہ شروع ہوجائے ،البتہ وہاں رکوع پر جو نمبر ہوگا اتنا ہی رکوع کہلا ئے گا ،اور جس پارہ میں ہوگا اسی پارہ کا رکوع کہلائے گا ،ع ۳۲ ،۶،1۶،میں ع کے سر پر جو نمبر ہے اس سے مراد سورہ کا رکوع یعنی سورہ کا ۳۲واں رکوع ہوا ،ع کے پیٹ میں جو نمبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس رکوع میں اتنی آیتیں ہیں ،لہذا سولہویں رکوع میں چھ آیتیں ہیں ،ع کے نیچے جو نمبر ہوتا ہے اس سے مراد پارہ کا رکوع ہے ۔ تحریر:محمد طارق ندوی

تصویب: ناصر علی ندوی