علم غیب سے متعلق ایک آیت پر اعتراض

’’إنک میت وانہم میتون ‘‘سے مراد
اکتوبر 30, 2018
علم غیب سے متعلق ایک آیت پر اعتراض
اکتوبر 30, 2018

علم غیب سے متعلق ایک آیت پر اعتراض

سوال :ﷲ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ پانچ باتوں کا علم سوائے ﷲ تعالی کے کسی کو نہیں ہے ،لیکن آج کل معالجین مشینوں کے ذریعہ قرار ہونے کے ایک گھنٹہ کے بعد یہ پتہ لگا لیتے ہیں کہ مادر رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی ؟قرآن مجید کا یہ فرمان اور معالجین کی یہ تحقیق جو آئے دن مشاہدہ میں آرہی ہے بالکل متضاد ہے، جس سے خصوصا جدید تعلیم یافتہ طبقہ متاثر ہورہاہے ،اور کلام پاک کے اس فرمان پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ۔ ِ

ھوالمصوب:

صاحب فہم طبقہ اس سے متاثر نہیں ہوسکتا ہے ،اور نہ اس کے سامنے اس آیت کے بارے میں سوالیہ نشان ابھرے گا ،کیونکہ کہ کسی انسان کو بذریعہ مشین یہ علم ہوا ہے جب کہ اﷲ تعالی کو کسی ذریعہ کے بغیر اس کا علم ہے جیسے سگنل ڈاؤن دیکھ کر کہا جا تا ہے کہ ٹرین آنے والی ہے ،ظاہر بات ہے کہ اس کو علم غیب نہیں کہا جاسکتا ،بلکہ علم بغیر قرائن وآثار کے پایا جائے اس کو علم کہتے ہیں ،وہ باری تعالی ہی کو حاصل ہے ،دوسری بات یہ کہ ماں کے پیٹ میں بچہ سعید ہوگا یا شقی ہوگا ؟اس کا علم تو مشین سے بھی نہیں ہوسکتا ہے ،اﷲ تعالی اس کو جانتا ہے ،لہذا آیت اپنی حقیقت کے لحاظ سے ویسے ہی ہے جیسے پہلے تھی ،بلا ذریعہ ووسیلہ کے علم حاصل ہوتا ہے ،اس کو علم غیب کہا جاتا ہے ،کسی ذریعہ ووسیلہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے ،اس کو علم غیب نہیں کہا جا سکتا ہے (1) ِ
تحریر :محمد مستقیم ندوی

تصویب :ناصرعلی ندوی