حرف ضاد کو صحیح پڑھنے کا طریقہ

سورت،رکوع ،منزلوں کی تقسیم اورحرکات کا اضافہ
اکتوبر 30, 2018
رکوع ،آیات اور سورتوں سے متعلق چند سوالات
اکتوبر 30, 2018

حرف ضاد کو صحیح پڑھنے کا طریقہ

سوال :علماء میں تلاوت قرآن میں حرف ’ض‘کی ادائیگی کے بارے میں اختلاف ہے ،کچھ علماء ’ض‘کو دواد پڑھنے کے خلاف ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ ’ض‘ نہ تو خالص ’دال‘پڑھا جائے گا ،اور نہ خالص ’ظ‘علماء یہ دلیل دیتے ہیں کہ ’ض‘میں ایک صفت استطالہ زائد ہے ،باقی کل حروف دونوں حروف میں مشترک ہیں ،اس لئے یہ دونوں حروف مشتبہ الصوت ہوگئے ،لہذا ض کو ظ کی آواز سے پڑھا جائے گا ،علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ ض کو مخرج اور صفات کی پوری رعایت سے ادا کرنا مشکل ہے ،اس لئے اس حرف کو ظ کی آواز سے پڑھنا چاہیے ۔ اس کے برخلاف کچھ علماء’ ض‘کو ’ظ‘ کی آواز سے پڑھنے کے سخت خلاف ہیں، ’ض‘ کو’ ظ‘ پڑھنا اور تلاوت میں ’ض‘ کو ’ظ‘ کی مشابہ آواز سے پڑھنا ان علماء کے نزدیک قرآن کو کسی دوسرے حرف کی آواز سے بدل کر پڑھنا تحریف قرآن اور گناہ عظیم ہے ،ان علما ء کے نزدیک حرف کی صوت طبعی ،ہر حرف کی ادائیگی کی مخصوص رعایت ،بعض میں خاص صفات اور مخارج میں فرق ،مشتبہ الصوت حروف میں زبردست فرق پیدا کرنے کے لئے کافی ہیں ۔ مذکورہ تفصیل کے تناظر میں التماس ہے کہ ض کو صحیح پڑھنے کے اصو ل وآداب اور طریقہ سے آگاہ فرمائیں ۔ ِ

ھوالمصوب:

صورت مسؤلہ میں ض کی جگہ ظ اوردال تینوں کا مخرج الگ ہے ، ض کا مخرج حافہ لسان اور اس کے مفصل کی ڈاڑھیں خواہ داہیں جانب سے نکالا جائے یا بائیں جانب سے ،ظ کا مخرج طرف لسان اور ثنایاعلیا کی جڑیں ہیں ،دال کا مخرج نوک زبان اور ثنایا علیا کی جڑیں ہیں ۔ الغرض حرف ’ض‘ اپنے مخرج وصفات کے اعتبار سے ظاء اور دال دونوں سے بالکل الگ ایک مستقل حرف ہے ،اس کو’ ظ‘ اور’ دال‘ کسی طرح پڑھنا غلط ہے ،اگر جان بوجھ کر ایسا کرتا ہے تو نماز فاسد ہوجائے گی ،لیکن ناواقفیت اور عدم تمیز کی بناء پر ایسا ہوجائے یعنی کسی ایک کے مشابہ ہوجائے تو نماز ہوجائے گی۔ روح المعانی میں ہے : والفرق بین الضاء والظاء مخرجاً ان الضاد مخرجہا من اصل حافۃ اللسان ومایلیہا من الاضراس عن یمین اللسان أو یسارہ ومنہم من یتمکن من اخراجہا منہما ،والظاء مخرجہا من طرف اللسان واصول الثنایا العلیا واختلفو ا فی ابدال احدہما بالاخری ہل یمتنع وتفسد بہ الصلاۃ ام لا، فقیل تفسد قیاسا نقلہ فی المحیط البرہانی عن عامۃ المشائخ و نقلہ فی الخلاصۃ عن ابی حنیفۃ ومحمد وقیل لا تفسد استحسانا(1) تحریر: ساجد علی

تصویب : ناصر علی ندوی