تخلیق کے لئے چھ دن کا مطلب؟

تخلیق کے لئے چھ دن کا مطلب؟
اکتوبر 30, 2018
’’إنک میت وانہم میتون ‘‘سے مراد
اکتوبر 30, 2018

تخلیق کے لئے چھ دن کا مطلب؟

سوال :ﷲ تعالی نے کل تخلیق چھ روز میں کی جب کہ تخلیق کے پہلے دن کا وجود ہی نہ تھا ،تو چھ دن چہ معنی دارد ،اور قرآن نے دوسری جگہ کہا ہے کن فیکون،ا س سے پتہ چلتا ہے کہ ہر اشیاء کہتے ہی ہوجاتی ہیں ،تو چھ دنوں کاکیا مطلب ہے ،اور ﷲ تعالی محتاج بھی نہیں تو پھر چھ دنوں کا کیا مطلب ہے؟ ِ

ھوالمصوب:

تخلیق سے پہلے دن کا وجود نہ تھا ،لیکن تخلیق کے پہلے دن کا وجود تو تخلیق کے ساتھ ہورہاہے ،آپ کا اعترا ض چہ معنی دارد ،فرض کر لیجئے اتوار پہلا دن تخلیق کا ہے تو کیا اس کا وجود نہیں ہے ،اور تخلیق کا آخری دن جمعہ ،اسی لئے ا س کوجمعہ کہا گیا کیونکہ جمیع تخلیق مع چھ ایام وجود میں آگئے ،ﷲ قادر ہے کن کے دریعہ بھی خلق پراور بغیر کن کے مہلت کے ساتھ بھی ،لہذا جہاں اس کا ارادہ کن کے ساتھ ہوا وہاں کن سے وجود بخشا: إذا اراد شیئا أن یقول لہ کن فیکون(1) اور جہاں مہلت کے ساتھ ایجاد کا ارادہ ہوا وہاں مہلت کے ساتھ ایجاد فرمائی ،تاکہ ا سکی قدرت کوایک صورت میں محصور نہ سمجھ لیا جائے ۔ تفسیر کی کتابوں میں ہے:اس کی تفسیر کچھ یوں ملتی ہے ،ﷲ نے کل مخلوق چھ دن میں پیدا فرمائی ، اس کا مطلب یہ ہے کہ کل مخلوق کی تخلیق میں اتنا وقت لگا کہ اگر ا سوقت سورج ہوتا تو ہماری دنیا کے اعتبار سے چھ دن ہوتے ،التفسیر الکبیر میں ہے: قلنا معناہ أنہ مضی من المدۃ ما لوحصل ہناک فلک أو شمس لکان المقدار مقدرا بیوم(1) چھ دن کے اندر تخلیق کائنا ت کی روح المعانی میں تین حکمتیں بیان کی گئی ہیں ۔ 1۔ﷲ تعالی بندوں کو ا سکی تعلیم دینا چاہتا ہے کہ قدرت کے باوجود کام کرنے میں عجلت نہیں کرنی چاہیے ،مشہور حدیث : التأنی من اللّٰہ والعجلۃ من الشیطان(۲) بھی اسی کی طرف مشیر ہے ۔ ۲۔تدریجی تخلیق میں ا س طرف اشارہ ہے کہ ﷲ تخلیق کائنات میں مجبور نہیں تھا ،بلکہ سب کچھ اپنے اختیار سے کیا ۔ ۳۔دفعۃًتخلیق کائنات میں اظہار قدرت تھی اور تدریجی تخلیق میں اظہار حکمت ،تخلیق کائنات میں ﷲ نے اپنی حکمت کا اظہار فرمایا ہے : وفی خلقہ سبحانہ الأشیاء مدرجا علی ما روی عن ابن جبیر تعلیم للخلق التثبت والتأنی فی الامور کما فی الحدیث ’’التأنی من ﷲ والعجلۃ من الشیطان ‘‘وقال غیرواحد إن فی خلقہا مدرجا مع قدرتہ سبحانہ تعالی علی إبداعہا دفعۃ دلیل علی الاختیار والاعتبار للنظار…… وقیل إن التعجیل فی الخلق أبلغ فی القدرۃ والتثبت أبلغ فی الحکمۃ فأراد ﷲ تعالی إظہار حکمتہ فی خلق الأشیاء بالتثبت کما اظہرقدرتہ فی خلق الاشیاء بکن(۳) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ ﷲ تعالی ہر چیز پر قادر ہے ،لیکن فیصلے اپنی مشیت کے مطابق کرتا ہے، تاکہ ﷲ تعالی کی قدرت کسی ایک چیز میں محصور نہ سمجھ لیا جائے ۔ ِ
تحریر :مسعود حسن حسنی

تصویب: ناصر علی ندوی