وجوب غسل سے متعلق ایک سوال

سنت ونفل میں فرق
نومبر 1, 2018
وجوب غسل سے متعلق ایک سوال
نومبر 1, 2018

وجوب غسل سے متعلق ایک سوال

سوال: مولانا عبدالشکورؒ کی مشہور کتاب علم الفقہ میں مندرجہ ذیل مسئلہ مع حوالہ کے بعنوان ’’جن صورت میں غسل فرض نہیں‘‘ مذکور ہے کہ اگر کسی کنواری لڑکی کے ساتھ جماع کیا جائے اور اس کی بکارت زائل نہ ہو تو غسل فرض نہیں ہوگا (مراقی الفلاح) کیا مذکورہ بالا مسؤلہ وحوالہ درست ہے؟ نیز اسی کتاب کے اسی عنوان کے تحت مذکور ہے اگر کوئی مرد کسی کمسن عورت کے ساتھ جماع کرے تو غسل فرض نہیں ہوگا بشرطیکہ منی نہ گرے ۔

ھــوالــمـصــوب:

۱-مذکورہ بالا مسئلہ درست ہے۔ مراقی الفلاح کی عبارت یہ ہے:

ومنھا اصابۃ بکرلم تزل الاصابۃ (بکارتھا) من غیرانزال لأن البکارۃ تمنع التقاء الختانین ولودخل منیہ فرجھا بلاایلاج فیہ لاغسل علیھامالم تحبل منہ(۱)

مذکورہ بالامسئلہ کی تائید درمختار کی عبارت سے بھی ہوتی، عبارت یہ ہے:

کما لاغسل لوأتی عذراء ولم یزل عذرتھا بضم وسکون البکارۃ فانہا تمنع التقاء الختانین الااذا حبلت لإنزالھا وتعید ماصلت قبل الغسل کذا قالوا(۲)

أقول لایخفی أن الوجوب مشروط بمااذا زالت البکارۃ لأنہ مشروط فی الکبیرۃ …… ففیہا بالأولیٰ فقولہ فی البحر: قد یقال إن بقاء البکارۃ دلیل علی عدم الایلاج فلایجب الغسل کما اختارہ فی النھایۃ فیہ نظر فتدبر(۳)

تحریر:محمد ظفرعالم ندوی  تصویب: ناصر علی ندوی