عیدگاہ میں شکریہ کا پروگرام

عید کی نمازکے لئے منبر بنانا
نومبر 10, 2018
عیدگاہ میں شادی کی تقریب
نومبر 10, 2018

عیدگاہ میں شکریہ کا پروگرام

سوال:۱-ہمارے شہر کی عیدگاہ کے منتظمین بروز عید عین عیدگاہ میں چند غیرشرعی عمل سے لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں مثلاً سالانہ حساب کی تفصیلات کرتے ہوئے امدادکنندگان کے باربار نام پکافکر شکرگزاری کی رسم ادا کرتے ہیں، علاوہ ازیں سرکاری عہدیداران کلکٹر، معاملتدار ، فوجدار ، ڈی ایس پی

(۱)وفیہ بنیان المنبر وإنما اختاروا أن یکون باللبن والطین لامن الخشب لکونہ یترک بالصحراء من غیرحرز فلا تخاف علیہ من النقل بخلاف منابر الجوامع وفیہ اخراج المنبر الی المصلی فی الأعیاد قیاسا علی البناء۔عمدۃ القاری، ج۵،ص:۱۷۱

قولہ ’’لکن فی الخلاصۃ‘‘ ومثلہ فی الخانیۃ فإنھما قالا: ولا یخرج المنبر إلی الجبانۃ یوم العید واختلف المشائخ فی بناء ہ فی الجبانۃ، قیل یکرہ، و قیل لا، فدل کلامھما علی أنہ لا خلاف فی کراھۃ اخراجہ إلیھا وإنما الخلاف فی بناء ہ فیھا، ویمکن حمل الکراھۃ علی التنزیھیہ وھی مرجع خلاف الأولیٰ المفاد من کلمۃ لا بأس غالباً فلا مخالفۃ فافھم، وفی الخلاصۃ عن خواہر زادہ ھذا:أی بناء ہ حسن فی زماننا۔ ردالمحتار،ج۳،ص:۴۹

وغیرہم کا نام لے کر شکریہ ادا کیا جاتا ہے، اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور تسبیح وتہلیل میں خلل ہوتا ہے ، کیا عیدگاہ میں یہ عمل شرعاً درست ہے؟

۲-عیدگاہ میں لوگوں کو تکلیف ہو ایسا عمل کرنے والا شرعاً گنہ گار ہوگا یا نہیں؟

ھــوالـمـصـــوب:

۱-بہتریہ ہے کہ شکریہ کاپروگرام کسی اورجگہ انجام دیں،عیدگاہ میں کرناجائز ہے بشرطیکہ کسی غیر شرعی امورکاارتکاب نہ کیاجائے۔

۲-یہ صورت تکلیف کی نہیں ہے،جس کی بناء پرگناہ لازم آئے۔

تحریر: محمدظفرعالم ندوی  تصویب: ناصر علی ندوی