کیا ہدایہ کے مسائل احادیث سے متعارض ہیں ؟

چند متفرق سوالات
اکتوبر 29, 2018
قاضی کا انتخاب
اکتوبر 29, 2018

کیا ہدایہ کے مسائل احادیث سے متعارض ہیں ؟

سوال :صاحب ہدایہ کا زمانہ قدوری سے دور ہے ،اور ہدایہ کا مقام بھی مقلدین یعنی حنفیہ کے یہاں اعلی وارفع ہے ،لیکن اس کے باوجود عن ابی حنیفہ کہتے ہیں ،تو ان مسائل کا کیا مقام ہوگا ،جو شاید بغیر ثبوت کے صاحب کتاب نے نقل کیا ہے ،،اور فقہ کے مسائل اگر حدیث کے متعارض ہوں تو فقہ کا مقام قابل عمل ہوگا یا نہیں ؟ ِ

ھوالمصوب:

صاحب ہدایہ کا زمانہ صاحب قدوری سے بہت بعد کا ہے ،دونوں کی وفات میں کوئی 1۶۵/سال کا فرق ہے ،آپ کا یہ کہنا کہ اس بعد زمانی کے باوجود ہدایہ کا مقام احناف کے نزدیک اعلی وارفع ہے ،غلط ہے ،کیونکہ دونوں کا موازنہ کرنا اور پھر یہ نتیجہ نکالنا ہی صحیح نہیں ہے ،ہدایہ درحقیقت قدوری اور جامع صغیر کی شرح ہے ،متن اور شرح کا باہمی موازنہ نہیں کیا جا تا ،اور پھر یہ کہنا کہ ان مسائل کا کیا مقام ہوگا جو شاید بغیر ثبوت کے صاحب ہدایہ نے نقل کر دئے ہیں درست نہیں ہے ،صاحب ہدایہ نے اپنی طرف سے ابو حنیفہ کا قول یا مذہب نقل نہیں کیاہے ،بلکہ امام محمد کی ظاہر الروایۃ اور زیادات سے ماخوذ ہے ،ہدایہ کا کوئی مسئلہ احادیث سے متعارض نہیں ،کیونکہ احناف کامسلک ہے کہ اگر خبر واحد اور قیاس کے درمیان تعارض واقع ہورہا ہو تو تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو اس صورت میں خبر واحد کو مقدم رکھا جائے گا ،حنفیہ کا یہی مسلک ہے : إذا تعارض خبر الواحد والقیاس بحیث لا جمع بینہما ممکن قدم الخبر مطلقا عند الأکثر منہم ابو حنیفۃ والشافعی وأحمد(1) تحریر:محمد مستقیم ندوی

تصویب :ناصر علی ندوی