تاریخ وصال اور تاریخ تدفین

انتقال کے وقت ازواج مطہرات کی تعداد
اکتوبر 30, 2018
تاریخ وصال اور تاریخ تدفین
اکتوبر 30, 2018

تاریخ وصال اور تاریخ تدفین

سوال :آپ ﷺ کی تاریخ وصال اور تاریخ تدفین کیا ہے ؟تدفین میں تاخیر ہونے کا سبب اگر کوئی پیسے کا نہ ہونا بتاتا ہے تو کیا ایسے شخص کے لئے رجوع وتوبہ لازم ہے ؟ ِ

ھوالمصوب:

آ پ کا وصال 1۲/ربیع الاول کو اور تجہیز وتکفین 1۳/ربیع الاول کو ہوئی ،تدفین میں تاخیر کے بارے میں جو سبب آپ کے استفتاء میں بتایا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے ،بلکہ دوسرے متعدد اسباب تھے ۔ 1-بعض عقیدت مندوں کو اس عظیم سانحہ کا یقین نہیں آرہا تھا ۔ ۲-وصال کے بعد اتنا وقت نہیں تھا کہ تجہیز وتکفین کریں ،کیونکہ غروب آفتاب قریب تھا ۔ ۳-قبر کی کھدائی کا کام غسل کے بعد شروع ہوا اس لئے تاخیر ہوئی ، ۴-جس حجرہ میں آپ کی وفات ہوئی تھی وہ چھوٹا کمرہ تھا ،لوگ باری باری جاکر نماز جنازہ ادا کررہے تھے (1) نوٹ:وصال 1۲/ربیع الاول 11؁ھ دوشنبہ بوقت چاشت ،پیر کا دن متفق علیہ ہے ،مگر تاریخوں میں اختلاف ہے ،یکم اور ۲/ بھی مروی ہے ،اور ایک حساب سے 1۳/ بھی نکلتی ہے،اصل اشکال یہ ہے کہ ۹/ذی الحجہ کو جمعہ کا دن قطعا ثابت ہے ،اور اس حساب سے 1۲/ربیع الاول کو ماسوا اس نادر صورت کے دوشنبہ کسی طرح نہیں ہو سکتا ،کہ متواتر تین مہینے تیس تیس دنوں کے ہوں اور مکہ و مدینہ کی رویت میں اختلاف مانا جائے ،لیکن ایک رائے یہ بھی ہے کہ بطور شاذ ایسا بھی ہوسکتا ہے ،اور دوسری تاویل یہ ہے کہ مکہ ومدینہ میں موسمی وجوہ رؤیت ایک دن آگے پیچھے ہو سکتی ہے ،تدفین 1۳/ربیع الاول بروز سہ شنبہ و 1۴ /ربیع الاول کی درمیانی شب ہوئی ،یہی وجہ ہے کہ مؤرخین کے یہا ں سہ شنبہ اور چہار شنبہ میں اختلاف ہے (۲) ِ
تحریر :محمد طارق ندوی

تصویب :ناصر علی