قرآن چھونے سے متعلق دوعبارتوں کی وضاحت

ناپاکی کی حالت میں قرآن چھونا
نومبر 1, 2018
چالیس دن پر مشتمل وظیفہ کیسے پورا کرے ؟
نومبر 1, 2018

قرآن چھونے سے متعلق دوعبارتوں کی وضاحت

سوال:ولاتمس ھولاء أی الحائض والجنب والنفساء والمحدث مصحفاً إلا بغلاف متجاف أی منفصل عنہ۔ اس عبارت کی تشریح یہ ہے کہ شرح وقایہ کی شرح میں ہے لاتمس بے وضو شخص کے لئے بھی قرآن شریف چھونا جائز نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: لایمسہ إلاالمطھرون اور حدیث میں ہے ’عن حکیم بن حزام قال لما بعثنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إلی الیمن قال: لاتمس القرآن إلاوانت طاھر‘۔ آیت اور حدیث میں مناسبت ہے، لیکن عبارت کنایہ ہے کہ إلابغلاف متجاف أی منفصل عنہ لیکن مسئلہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ حائضہ، نفساء قرآن چھوسکتی ہے تو اس کو مفصل طور پر تحریر کیجئے کہ کن حالت میں جائز ہے۔

ھــوالــمـصــوب:

دونوں عبارتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، إلابغلاف متجاف کا مطلب یہ ہے کہ بے وضو کپڑے کے واسطہ سے چھوئیں۔ غلاف منفصل سے چھونا قرآن کریم کا چھونا نہیں ہے، بلکہ غلاف کا چھونا ہے۔

تحریر:محمد مستقیم ندوی               تصویب: ناصر علی ندوی