دینی کتابیں ساتھ لے جانا اور پڑھنا

چالیس دن پر مشتمل وظیفہ کیسے پورا کرے ؟
نومبر 1, 2018
ناپاکی کی حالت میں طوافِ زیارت
نومبر 1, 2018

دینی کتابیں ساتھ لے جانا اور پڑھنا

سوال:صوبۂ مہاراشٹرکے خطۂ کوکن میں آج تقریباً دو سال سے کوکن ایجوکیشن ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے قوم کے نونہالوں میں اسلامی شعور کی بیداری کے لئے اس علاقہ کے مسلم اقلیتی ثانوی اداروں میں دینیات مضمون سکھایا پڑھایا جارہا ہے، دینیات کے مذکورہ ٹرسٹ نے اسلامی تعلیمات مؤلفہ مولوی عبدالعزیز کی ترتیب کردہ کتاب کو نصاب میں شامل کیا ہے جن ہائی اسکولوں میں اس نصاب سے تعلیم دی جارہی ہے، ان میں تعلیم مخلوط ہوتی ہے جن کی عمر ۱۰تا۱۶ سال کے درمیان ہوتی ہے، یعنی طالبات بالغ یا قریب البلوغ ہوتی ہیں، کتاب میں دینی مضامین کے ساتھ منتخب آیات قرآنی، چھوٹی اور اوسط سورتیں مع ترجمہ موجود ہیں، چھوٹے درجہ کی بچیوں کو سورہ مع ترجمہ حفظ کرانے کا اہتمام ہوتا ہے بڑے درجہ کے بچوں اور بچیوں سے نہ تو وہ سورتیں پڑھائی جاتی ہیں اور نہ ترجمہ بلکہ انہیں گاہے بگاہے طہارت کے پیش نظر تاکید کی جاتی ہے کہ آپ کتاب بھی نہ ساتھ لائیں، استاد ہی ترجمہ وتفسیر پڑھادیتے ہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان بچیوں کو جو بالغ ہوتی ہیں اور ایام حیض کے مرحلہ سے گزرتی ہیں ان کتابوں کے ذریعہ تعلیم دی جاسکتی ہے اور کیا وہ کتابوں کو ساتھ رکھ کر ان سورتوں کو دیکھ سکتی ہیں جو پڑھائی جارہی ہیں؟

ھــوالــمـصــوب:

صورت مسؤلہ میں حائضہ لڑکیوں کو ایسی کتابوں کے ذریعہ تعلیم دی جاسکتی ہے جن میں آیات قرآنی اور سورتیں ہیں اور وہ اپنے ساتھ ان کتابوں کو احتیاط کے ساتھ لابھی سکتی ہیں اور دیکھ بھی سکتی ہیں، لیکن مکمل آیت نہیں پڑھ سکتی ہیں بلکہ اس کو توڑتوڑ کر پڑھ سکتی ہیں(۱) لکھی ہوئی سورہ کو چھو نہیں سکتی ہیں(۲)

نوٹ: جن کتابوں میں قرآنی آیات ہیں ان کو جزدان میں رکھا ہوا لابھی سکتی ہیں اور آستین یا رومال یا کسی کپڑے کو حائل کرکے چھوبھی سکتی ہیں۔ ناصر علی

تحریر:محمد طارق ندوی      تصویب: ناصر علی ندوی