وسیلہ سے متعلق روایت کی تحقیق 

ایک روایت کا مطلب
اکتوبر 30, 2018
چندروایتوں کی تحقیق 
اکتوبر 30, 2018

وسیلہ سے متعلق روایت کی تحقیق

سوال :بعض لوگ اختتام دعاء پر کہتے ہیں اے ﷲ حضور پاک کے صدقۂ طفیل ہماری دعاء قبول فرما……دلیل معلوم کرنے کہتے ہیں کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے وسیلہ سے آدم علیہ السلام نے دعاء مانگی تھی ،ﷲ تعالی نے آدم کی دعاء حضـور پاک کے صدقہ طفیل میں دعاء قبول فرمائی ……برائے مہربانی اس حدیث کی اسناد بیان فرمائیں اور بتائیں کہ یہ حدیث محدثین کے نزدیک قابل سند ہے ،جبکہ آدم علیہ السلام کی دعاء کے الفاظ خود قرآن میں موجود ہے ۔ ِ

ھوالمصوب:

کسی حدیث کی صحت اور سقم کا مدار اس کی سند اور رجال پر ہے ،چنانچہ جس مرتبہ اور درجہ کے لوگ ہونگے اسی مرتبہ اور درجہ کی حدیث ہوگی ،سوال میں مذکور ہ حدیث کے رجال مندرجہ ذیل ہیں : أبوالحارث عبداللّٰہ بن مسلم الفہری حدثنا اسماعیل بن مسلمۃ أنبانا عبد الرحمن بن زید بن اسلم عن أبیہ عن جدہ عن عمر بن الخطاب ……(1) حدیث مذکورکو حاکم نے اپنی مستدرک میں نقل کیا ہے اور ’’صحیح الاسناد ‘‘قرار دیا ہے ،حالانکہ خود حاکم نے اپنی دوسری کتاب ’’المدخل ‘‘میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ عبدالرحمن بن زید اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتے ہیں اور یہ بات اصحاب تحقیق سے مخفی نہیں ،نیز امام ذہبی بھی حاکم کے صحیح الاسناد قرار دینے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے ،عبدالرحمن بن زید کو واہ اور عبدﷲ بن مسلم الفہری کو مجہول قرار دیا ہے ،بیہقی نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے ،اور اس پر کلام کرتے ہوئے کہاہے کہ عبدالرحمن بن زید ضعیف ہونے کے باوجود متفرد ہیں ،امام طحاوی نے عبدالرحمن بن زید کے سلسلہ میں یہ ارشاد فرما یا ہے کہ ان کی حدیث تمام محدثین کے نزدیک نہایت ضعیف ہے ،جرح وتعدیل کے امام علی بن المدینی عبدالرحمن بن زید کو بالکل ضعیف کہتے ہیں ،یہی قول ابن سعد کا ہے ،اسی طرح کے اقوال دیگر اور محدثین کے بھی ہیں (۲) یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن تیمیہ نے عبد الرحمن بن زید کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اجماع نقل کیا ہے(۳) لیکن ہماری ناقص تحقیق کے اعتبار سے ایک دو محدثین ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان کی توثیق کی ہے ،مگر جمہور کے نزدیک ان کی کیا حقیقت ہے ؟……خلاصہ کلام یہ کہ حدیث مذکور جمہور محدثین کے نزدیک قابل سند اور لائق عمل وحجت نہیں ہے ۔ ِ
تحریر : محمد شاہد انور

تصویب : ناصر علی ندوی