علم سے متعلق ایک روایت کی وضاحت

ایک حدیث کی تلاش
اکتوبر 30, 2018
طلب العلم فریضۃ کو دنیوی علم پر منطبق کرنا
اکتوبر 30, 2018

علم سے متعلق ایک روایت کی وضاحت

سوال :میں اپنے معمول کے مطابق احادیث کا تقابلی مطالعہ کررہا تھا ،اس بار فضائل اعمال کو مطالعہ کے لئے منتخب کیا ،دوران مطالعہ ایک حدیث کو سمجھنے میں قدرے مشکل پیش آئی ،لہذا مع اس حدیث کے آ پ کی خدمت میں حاضر ہوں ،حدیث یوں ہے :حضرت ابودرداء ؓفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور یہ ارشاد فرمایا کہ اس وقت علم دنیا سے اٹھ جانے کا وقت ……یہ یہود ونصاری بھی تو توراۃ وانجیل پڑھتے پڑھاتے ہیں پھر کیا کار آمد ہوا، ابوداؤد کے شاگرد ……سب سے پہلے نمازکا خشوع اٹھ جائے گا۔ آپ سے گذارش ہے کہ مذکورہ حدیث کا متن اور ترجمہ ارسال فرمائیں ۔ ِ

ھوالمصوب:

حدیث کا متن اس طرح ہے : عن أبی الدرداء قال کنا مع النبی ﷺ فشخص ببصرہ الی السماء ثم قال: ہذا أوان یختلس العلم من الناس حتی لایقدروا منہ علی شئی ،فقال زیاد بن لبید الأنصاری کیف یختلس منا وقد قرأنا القرآن فواللّٰہ لنقرأنّہ ولنقرأنّہ نسائنا وأبنائنا؟ قال ثکلتک امک یا زیاد ان کنت لأعدک من فقہاء أہل المدینہ ،ہذہ التوراۃ والانجیل عند الیہود و النصاری فما ذا تغنی عنہم؟ قال جبیر فلقیت عبادۃ بن الصامت فقلت الا تسمع ما یقول أخوک ابوالدرداء فأخبرتہ بالذی قال أبوالدرداء قال: صدق أبوالدرداء ،ان شئت لاحدثنک بأول علم یرفع من الناس: الخشوع یوشک أن تدخل مسجد الجامع فلا تری فیہ رجلا خاشعا (1) ترجمہ :حضرت ابودرداء سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ وقت ہے کہ جس میں لوگوں سے علم چھین لیا جائے گا ،یہاں تک علم نام کی کسی شئی پر ان کی قدرت نہیں رہ جائے گی ،تو زیاد بن لبید انصاری ؓنے پوچھا :کیسے ہم سے علم چھین لیا جائے گا ،جب کہ ہم نے قرآن پڑھا ،یعنی اس کا علم آپ سے حاصل کیا ،اور ﷲ کی قسم ہم پڑ ھیں گے اور اپنی عورتوں اور اپنی اولاد کو ضرور پڑھائیں گے ، تو حضور ﷺ نے فرمایا :تجھے تیری ماں روئے زیاد !میں تو تم کو مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا ،یہ توراۃ وانجیل جو یہود ونصاری کے پاس ہے ،ان کے کس کام آرہی ہے ،جبیر فرماتے ہیں میں اس کے بعد عبادہ بن صامت سے ملا ،اور ان سے پوچھا کیا تم نہیں سنتے ہو کہ تیرے بھائی ابودرداء کیا کہتے ہیں ،اور میں نے ان کو ابودرداء کی بات سنائی ،تو انہوں نے کہا کہ ابودرداء نے سچ کہا ،اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے پہلے جو علم لوگوں سے اٹھایا جائے گا وہ خشوع ہوگا ،ہوسکتا ہے کہ تم کسی جامع مسجد میں داخل ہو اور وہاں کسی صاحب خشوع کو نہ پاؤ ۔ ِ
تحریر :ناصر علی