قبر کا عذاب صرف جسم پرہوگایاصرف روح پر؟

معتکف کا والد کے جنازہ میں شرکت کرنا؟
نومبر 11, 2018
کیامردے بغیرکپڑے کے اٹھائے جائیں گے؟
نومبر 11, 2018

قبر کا عذاب صرف جسم پرہوگایاصرف روح پر؟

سوال:بنگلور کی ایک مسجد کے خطیب صاحب نے ابھی حال میں دوران خطبہ حسب ذیل باتیں کہیں:

ــ’’انسان جب انتقال کرجاتا ہے اور اس کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو منکر نکیر کے سوال وجواب کا تعلق اس کی روح سے ہوتا ہے اس کے جسم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کا جسم تو گل سڑ جائے گا اب اس کو دوبارہ ﷲ تعالیٰ قیامت کے دن ہی اٹھائیں گے۔ قرآنی آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے اور مرنے والے کی روح برزخ میں ہوتی ہے۔ اور عقل سلیم بھی یہی تسلیم کرتی ہے ورنہ لاکھوں، کروڑوں انسان ایسے ہیں کہ جن کی قبریں ہی نہیں بنتیں۔ ان کو تو آگ میں جلایا جاتا ہے جسم ہی باقی نہیں رہتا تو جسمانی عذاب کا کیا سوال۔

==     قال فی الفتح: ویستحب لجیران أھل المیت والأقربا والأباعد تھیئۃ طعام لھم یشبعھم یومھم ولیلتھم۔ ردالمحتار،ج۳،ص:۱۴۸

(۱) وحرم علیہ أی علی المعتکف اعتکافاً واجباً…… الخروج إلا لحاجۃ الإنسان طبیعتہ کبول وغائط وغسل…… أو شرعیۃ کعید وأذان۔درمختار مع الرد،ج۳،ص:۴۳۵

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مردے کو دفن کرنے کے فوراً بعد قتل کیس کی تحقیق کے لئے قبرکھولی جاتی ہے، مردے کو نکال کر پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے تو جزا اور سزا کا اس کے جسم پر کوئی اثر نہیں رہتا۔ لہذا جزا سزاکا معاملہ اس کی روح کے ساتھ ہوگا جس سے جسم کاکوئی تعلق نہیں۔ جن حدیثوں میں قبر میں جسم کے ساتھ زندہ ہونے کا تذکرہ ہے وہ حدیثیں ضعیف اور موضوع ہیں۔ یہ قرآنی آیات اور عقل سلیم کے خلاف ہیں اور اسلام ایسی بات نہیں پیش کرتا جس کو غیرمعقول کہا جاسکے‘‘۔

اس خطبہ سے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ہمارے پاس اتنا ٹھوس علم نہیں ہے کہ اس مسئلہ میں تحقیق کریں۔ لہذا ہم علم کے مراکز کی طرف رجوع کررہے ہیں امید ہے کہ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر دلائل کے ساتھ صحیح باتیں تحریر فرماکر مشکوروممنون فرمائیں گے۔ یاد دہانی کیلئے وہ حدیث نقل کررہا ہوں جو بخاری شریف میں ہے، عربی متن نہیں ہے اردوترجمہ پیش کررہا ہوں:

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷲؐ نے فرمایا:بندے کو جب قبر میں رکھ کر اس کے ساتھی منھ موڑ کر اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ وہ ان کی جوتیوں کی آواز فقط سن سکتا ہے۔ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور مردے کو بٹھاکر کہتے ہیں تو اس شخص یعنی محمدؐ کے متعلق کیا کہتا ہے ‘‘وہ اگر مومن ہے تو کہے گا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ خدا کے بندے اور رسول ہیں ، اس سے کہا جائے گا کہ اپنے دوزخ کے ٹھکانے کو دیکھ ﷲ تعالیٰ نے اس کے بجائے تیرے لئے جنت میں جگہ عطا فرمائی ہے۔ اگر وہ کافر اورمنافق ہے تو کہے گا مجھے کچھ علم نہیں تھا جولوگ کہتے تھے میں بھی وہی کہتا تھا لیکن دل سے یقین نہیں کرتا تھا، اس وقت اس سے کہا جائے گا کہ تو واقعی محمدؐ پر دل سے یقین نہیں رکھتا تھا اور کلمۂ توحید بھی نہیں پڑھتا تھا۔ اس کے بعد بطور سزا اس کے دونوں کانوں کے بیچ میں ہتھوڑا مارا جائے گا اور وہ اس قدر چیختا رہے گا کہ اس کی آواز سوائے جن وانس کے آس پاس کی ہرچیز سنے گی۔(بخاری شریف)

مذکورہ حدیث سے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مردے کو جسم کے ساتھ اٹھاکر بٹھارہے ہیں اور اس سے سوال وجواب ہورہا ہے۔ مگر خطیب صاحب نے اس روایت کو قرآن کریم اور عقل سلیم دونوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے کہا کہ یہ غلط ہے اور موضوع روایت ہے۔ حضرت امام بخاریؒ سے اس روایت کے بارے میں چوک ہوگئی ہے۔

ھــوالــمـصــوب:

دریافت کردہ صورت میں ذکر کردہ رائے ابن حزمؒ اور ابن ہبیرہ کی ہے کہ بعد وفات سوال وجواب صرف روح سے ہوتا ہے، لیکن جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے خواہ جسم مکمل ہو یا جسم کا کوئی جزء ہو پھر سوال وجواب کا معاملہ ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وذھب ابن حزم وابن ھبیرۃ إلیٰ أن السوال یقع علی الروح فقط من غیر عود إلیٰ الجسد، وخالفھم الجمھور فقالوا: تعاد الروح إلی الجسد أو بعضہ کما ثبت فی الحدیث، ولوکان علیٰ الروح فقط لم یکن للبدن بذلک اختصاص، ولا یمنع من ذلک کون المیت قد تتفرق أجزاء ہ، لأن ﷲ قادر أن یعید الحیاۃ إلیٰ جزء من الجسد ویقع علیہ السوال کما ھو قادر علی أن یجمع أجزاء ہ(۱)

جمہور کے مسلک کو قرآن اور عقل سلیم کے خلاف قرار دینا درست نہیں ہے۔ اوّلاً تو مابعد الموت کے مسائل کو دنیوی امور سے قیاس کرنا ہی صحیح نہیں ہے، علماء نے اس طرح کے قیاس کرنے والوں کا جواب بھی دیا ہے اور ایک نائم (یعنی سونے والے شخص) کی حالت پر غور کرنے کے لئے متوجہ کیا ہے۔

(۱)فتح الباری ج۳،ص:۲۹۸

بخاری کی شرح فتح الباری اورمشکوۃ کی شرح طیبی میں تفصیلات موجود ہیں۔ آخر الذکر کی ایک عبارت درج کررہا ہوں:

فإن قیل: نحن نشاھد المیت علی حالہ فکیف یسأل ویقعد و یضرب ولایظھر أثر؟ فالجواب: إن ذلک غیر ممتنع بل لہ نظیر فی الشاھد وھو النائم فانہ یجد لذۃ وألما یحسہ ولانحسہ وکان یجد الیقظان لذۃ وألماً یسمعہ أو یتفکر فیہ ولایشاھد ذلک جلیسہ وکذا کان جبرئیلؑ یأتی النبی ﷺ فیوحی إلیہ بالقرآن المجید ولا یدرکہ الحاضرون وکل ذلک دلیل ظاھر جلی(۱)

بخاری کی جو روایت حضرت انسؓ سے مروی ہے وہ متعدد طرق سے ہے اور درست ہے(۲) مسلم شریف اور ابوداؤد وغیرہ میں بھی یہی مضمون مختلف الفاظ وتعبیرات کے فرق کے ساتھ اور اکثر حصہ میں بعینہ الفاظ کے ساتھ موجود ہے(۳) اس لئے اسے موضوع نہیں قرار دیاجاسکتا ہے اورنہ ہی ضعیف ، جن حضرات نے روح سے سوالات کرنے کا مسلک اختیار کیاہے وہ بھی ان مذکورہ روایات کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک مرنے کے بعد جلائے جانے والوں سے سوال کا تعلق ہے تو عالم برزخ میں ان کے اجزاء جسمانی کا جمع کرنا ﷲ کے نزدیک کیا دشوار ہے جبکہ مذکور خطیب صاحب قیامت میں ایسے لوگوں کے جسم کے وجود کے قائل ہیں۔ بہرحال عوام الناس کے سامنے اس طرح کے نازک مسئلوں کو چھیڑنا ہرگز درست نہیں ہے بلکہ مفسدانہ طرز عمل ہے جس سے گریز ضروری ہے۔

تحریر:محمدظفرعالم ندوی   تصویب:ناصر علی ندوی