تدفین کے بعد سورتیں پڑھنے کی اجازت

تدفین کے بعد سورتیں پڑھنے کی اجازت
نومبر 11, 2018
تدفین کے بعد اجتماعی دعاء
نومبر 11, 2018

تدفین کے بعد سورتیں پڑھنے کی اجازت

 

سوال:تدفین کے فوراً بعد قبرستان پر کیا پڑھنا چاہئے، حضور اکرمؐ کا کیا معمول تھا، نیز صحابہ کرامؓ کا کیا طریقہ تھا اگر کسی مقام پر کچھ سورتیں وغیرہ

(۱)عن عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ قال سمعت النبی ﷺ یقول إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ واسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحۃ البقرۃوعند رجلیہ بخاتمۃ البقرۃ فی قبرہ۔شعب الایمان ،باب الصلاۃ علی من مات من أھل القبلۃ،حدیث نمبر: ۸۸۵۴،قال البیہقی:لم یکتب الا بہذا الإسناد فیما اعلم وقد روینا القراء ۃ المذکورۃ فیہ عن ابن عمر موقوفا۔

ویستحب إذا دفن المیت أن یجلسوا ساعۃ عند القبر بعد الفراغ بقدر ماینحرجزور و یقسم لحمھا یتلون القرآن ویدعون للمیت کذا فی الجوھرۃ النیرۃ۔الفتاویٰ الہندیہ،ج۱،ص:۱۶۶

ضروری سمجھ کر پڑھی جاتی ہوں اور نہ پڑھنے پر نکیر کی جاتی ہو اور اگر اس سے روکا جاتاہے کہ یہ حدیث سے ثابت نہیں ہے تو زید کہتا ہے کہ اس کا پڑھنا ممنوع ہے کہاں لکھا ہے؟

ھــوالــمـصــوب:

دفن کے بعد تھوڑی دیر تک وہاں قرآن مجید کی تلاوت اور درود پڑھنامستحب ہے، ایک روایت کے مطابق دفن کے بعد سراہنے سورۂ بقرہ کا اول اور پیر کی جانب سورۂ بقرہ کا آخر پڑھنا بھی ثابت ہے(۱) دفن کے بعد میت کے لئے دعاء مغفرت کرنی چاہئے اور پڑھنے کا ثواب اس کی روح کو بخشنا چاہئے۔ ہندیہ میں ہے:

ویستحب اذا دفن المیت إن یجلسوا ساعۃ عندالقبر بقدرماینحر جزورویقسم لحمھا یتلون القرآن ویدعون للمیت کذا فی الجوھرۃ النیرۃ(۲)

تلاوت قرآن اور درود پڑھنے والے کو روکنا درست نہیں ہے، نیز پڑھنے والے کو روکنا نہیں چاہئے یہ عمل مستحب ہے۔

تحریر:محمدطارق ندوی       تصویب: ناصر علی ندوی

نوٹ:ان باتوں کو لازم سمجھنا بدعت ہے۔