بیوی کا جنازہ کہاں سے اٹھے ؟

نازہ کو چادر سے ڈھانکنا
نومبر 11, 2018
جنازہ میں عورتوں کی شرکت کیوں نہیں ؟
نومبر 11, 2018

بیوی کا جنازہ کہاں سے اٹھے ؟

سوال:۱-میری اہلیہ ایک ماہ کی علالت کے بعد اس دارفانی سے کوچ کرگئی، وفات مینگلور اسپتال میں ہوئی، اپنے چار بچے بھی ہیں، وفات کے بعد میں اپنے یہاں کے عام اصول کے تحت اپنی اہلیہ کے جنازہ کو اپنے گھر لے آیا لیکن سسر کا کہنا تھا کہ جنازہ اپنے گھرسے اٹھے (یعنی سسرکے گھر سے) لیکن میں نے جنازہ کو اپنے گھر سے اٹھایا، آخر اس میں شریعت کا مسئلہ کیا ہے، کیا بیوی کے انتقال کے بعد تمام عورتوں کے جنازے سسرال کے گھر سے اٹھنے چاہئیں یا شوہر کے گھر سے؟ جبکہ ازواج مطہرات کے اکثر جنازے حضورؐ کے گھر سے اٹھائے گئے؟

۲-جب اس میت کو اپنے گھر لے آیا تو سسر نے اصرار کیا کہ جنازہ کو واپس

(۱) وچادرگل انداختن بدعت است ومکروہ تحریمی۔ مسائل أربعین ص:۴۵، از:مولانا شاہ محمد اسحق محدث دہلوی

اپنے گھر لاکر سب کو دکھاکر پھر واپس لے جائیے تو ہم نے لوگوں کے مشورہ سے ایسا ہی کیا جب کہ میت کو اس طرح ادھر ادھر لے جانے سے سخت تکلیف ہوتی ہے، کیا یہ حرکت جائز ہے؟

ھــوالــمـصــوب:

۱-میت کی تجہیز وتکفین میں جلدی کرنا چاہئے، بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے(۱) میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں تاخیر ہوتی ہے، اس لئے فقہاء نے میت کی منتقلی جو دومیل سے زیادہ ہو مکروہ لکھا ہے:

فإن نقل قبل الدفن قدر میل أومیلین لا بأس بہ وکرہ نقلہ لأکثر منہ(۲)

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالوں کا جواب خودبخود نکل آیا کہ مینگلور اسپتال اور آپ کے گھر کے درمیان دومیل سے زیادہ کا فاصلہ تھا تو آپ کے لئے مناسب یہ تھا کہ اسپتال سے قریب مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرتے لیکن چونکہ اسپتال میں غسل وغیرہ کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں،اس لئے گھرلاناجائز ہے، اور اگر دومیل یا اس سے کم ہو تو بھی گھرلانے میں کوئی کراہت نہیں ہے،مفتی بہ قول کے مطابق بیوی کی تجہیز وتکفین کی ذمہ داری شوہرپرواجب ہے(۳) اس لئے بیوی کا جنازہ شوہر کے گھر سے اٹھانے میں حرج نہیں ہے، البتہ ولایت اس کے اصول وفروع ہی کو حاصل ہے، شوہر کو حاصل نہیں۔

۲-ہر ایک کامشورہ قبول کرنا ضروری نہیں ہوتا، اگر لوگوں نے مکروہ عمل کے ارتکاب کا مشورہ دیا تھا تو آپ عمل نہ کرتے، آپ کے سسرکا مکروہ عمل کے ارتکاب پر اصرار درست نہیں ہے اور صرف دکھانے کیلئے میت کو ادھر سے ادھر منتقل کرنا درست نہیں ہے۔

تحریر: محمد طارق ندوی     تصویب:ناصر علی ندوی