خطبہ کی اذان سے متعلق ایک اعتراض کا جواب

اذان ثانی کہاں دی جائے؟
نومبر 10, 2018
خطبہ کی اذان سے متعلق ایک اعتراض کا جواب
نومبر 10, 2018

خطبہ کی اذان سے متعلق ایک اعتراض کا جواب

سوال:س:خطبہ کی اذان کس حصہ ہونی چاہئے؟

ج:خطیب کے سامنے ہونی چاہئے چاہے منبر کے پاس ہو یا ایک دوصفوں کے بعد یا ساری صفوں کے بعد مسجد میں ہو یا باہر ہر طرح جائز ہے۔

اس عبارت سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ باہر سے بھی اذانِ ثانی کہی جاسکتی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو ہم اہل حق کامسجدوں میں اندرونِ مسجد پر ہی کیوں تعامل ہے؟ دوسرے مسلک والے اپنی اپنی کتابوں کے دلائل پیش کررہے ہیں اور ہم اس سے خالی ہیں۔ اہل محلہ ہم سے اپنی کتابوں کے دلائل طلب کررہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ فتنہ ختم ہوجائے۔

(۱) درمختار مع الرد،ج۳،ص:۳۸

(۲)صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب الاذان یوم الجمعۃ،حدیث نمبر:۹۱۲

ھــوالــمـصــوب:

جمعہمیں اذان اول مسجد کے باہر اور اذان ثانی خطیب کے سامنے ہونا چاہئے۔ ابوداؤد شریف کی روایت ہے:

کان یؤذن بین یدی رسول ﷲ ﷺإذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد(۱)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام کے سامنے دروازہ پر اذان دی جاتی تھی، چونکہ مسجد چھوٹی تھی، اس لئے دوسری یا تیسری صف میں کوئی شخص امام کے سامنے کھڑا ہو تو وہ دروازہ تک پہنچ جائے گا، جس کو علی باب المسجد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اصلاً امام کے سامنے ہی اذان کہنا ہے۔ عنایہ اور اعلاء السنن میں امام طحاویؒ اور دیگر فقہاء کا قول نقل کیا گیا ہے، اور امام کے سامنے منبر کے پاس اذان دینے کو ہی معتبر قرار دیا گیا ہے اور اسی کو رسول ﷲ ﷺ اور ابوبکرؓ وعمرؓ کا معمول قرار دیا گیا ہے:

وکان الطحاوی یقول: المعتبر ھوالأذان عند المنبر بعد خروج الإمام فانہ ھوالأصل الذی کان للجمعۃ علی عھد رسول ﷲ ﷺ وکذلک فی عھد أبی بکر وعمر ونحوہ فی الکفایۃ فدل علی أن أذان الثانی محلہ عند المنبر وھو المراد بین یدیہ(۲)

تحریر:ساجد علی      تصویب:ناصر علی

نوٹ:اس طرح کے مسائل پیدا کرکے مسلمانوں میں انتشار واختلاف پیدا کرنا ہرگز دین کی خدمت نہیں ہے، بلکہ یہ دین دشمنی ہے۔ اگر جمعہ کی دوسری اذان مسجد میں دی گئی ہے تو کیا حرمت کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ مائک عام طور پر مسجد کے اندر ہوتے ہیں اسی سے اندرون مسجد اذانیں دی جاتی ہیں اور پہلی اذان کو جو مائک سے مسجد کے اندر سے بہت سی مسجدوں میں دی جاتی ہے خلاف سنت کیوں نہیں کہا جاتا بلکہ پہلی اذان جو زمانہ نبوت میں نہ تھی اس کو سنت کے خلاف کہنا چاہئے کیوں نہیں