جہاں جمعہ پہلے سے قائم ہو

جہاں جمعہ پہلے سے قائم ہو
نومبر 10, 2018
شہر سے باہر نماز جمعہ
نومبر 10, 2018

جہاں جمعہ پہلے سے قائم ہو

سوال:مدرسہ عمربن خطابؓ سے قدرے فاصلے پر ایک چھوٹی بستی ہے، یہ بستی کنج کھیڑے والوں کی ہے لیکن شاہی باڑہ کے نام سے جانی جاتی ہے جو گاؤں چھوڑکر پہلے اپنے کھیت میں آکر بسے پھر آہستہ آہستہ وہاں ایک بستی بس گئی، اس بستی میں تقریباً ۱۵؍۲۰ گھر ہیں اور یہ بستی کنج کھیڑے کی گرام پنچایت ہی کی حدودمیں ہے۔ اس بستی میں صرف ایک چھوٹی سی مسجد ہے لیکن اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاتی۔ اس بستی میں ایک بھی دکان نہیں ہے۔ وضاحت طلب امور یہ ہیں کہ

۱-کنج کھیڑا گاؤں میں جمعہ کی نماز واجب ہوتی ہے یا نہیں؟

۲-مدرسہ عمربن خطابؓ کنج کھیڑا کی مسجد میں نماز جمعہ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟

۳-جب سے مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی ہے اسی وقت سے یہاں نماز جمعہ ادا کی جارہی ہے۔ آیا اس بناء پر نماز جمعہ کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے یا نہیں؟

۴-جمعہ کی نماز واجب نہ ہونے کے باوجود جمعہ کی نماز پڑھنا شرعاً کیسا ہے؟

۵-اگر جمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی اس کے باوجود آٹھ برس سے نماز جمعہ ادا کی جارہی ہو اور فرض ظہر چھوڑی گئی ہوں تو اس صورت میں چھوٹی ہوئی فرض ظہر کی قضاء واجب ہوگی یا نہیں؟

۶-کنج کھیڑا گاؤں میں عیدگاہ بھی ہے، جہاں ہر سال عید اور بقرعید کی نماز اداکی جاتی ہیں۔ آیا اس گاؤں میں عید اور بقرعید کی نماز واجب ہوتی ہے یا نہیں؟

۷-کنج کھیڑا گاؤں کے رہنے والوں کے کھیتوں کا سلسلہ مدرسہ عمربن خطابؓ تک یا اس سے کافی آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ آیا اس صورت میں مدرسہ عمر بن خطابؓ اور اس کے قریب کی بستی شاہی باڑہ کو کنج کھیڑا گاؤں میں شامل سمجھا جائے گا یا نہیں؟

۸-مدرسہ عمر بن خطابؓ کنج کھیڑا اور اس کے اطراف میں جو چھوٹی چھوٹی بستیاں ہیں یا اکادکا گھر جو کسی نے کھیت میں بنالیا ہے وہاں کے رہنے والوں کو مدرسہ تک یا اپنے مقام تک پہنچنے کے لئے رکشہ یا ٹیکسی وجیپ کا کرایہ الگ دینا پڑتا ہے، کنٹر سے کنج کھیڑا آنے والی گاڑیاں مسافروں کو کنج کھیڑا تک ہی لاتی ہیں۔ آیا اس صورت میں مدرسہ کو کنج کھیڑا گاؤں میں شامل کیا جائے گا یا نہیں؟

۹-کیا مدرسہ یا اس طرح کے اداروں کو (جو شہر کے باہر ہوں اور ان میں جمعہ قائم ہوتا ہو) مثلِ کارخانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

۱۰-مدرسہ میں چند مفتیان کرام بھی تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں، انہیں جمعہ کے واجب ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں تردد ہے، اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟

ھــوالــمـصــوب:

اگر جمعہ کی نماز قائم ہوچکی ہے تو بند نہ کی جائے،بلکہ قائم رکھی جائے،خواہ جمعہ کے شرائط پائے جارہے ہوں یا نہ پائے جارہے ہوں، جہاں جمعہ قائم ہے وہاں جمعہ کے شرائط کی بحث کرنا مسلمانوں میں انتشار کو ہوا دینا ہے۔ لہذا وہاں یہ بحث بھی عبث ہے، اگر کوئی احتیاطاً ظہر ادا کرلیتا ہے تو کوئی بات نہیں، ورنہ اس احتیاط کی بھی ضرورت نہیں ہے(۱) بہرحال اپنے اس احتیاطی عمل کی تشہیر بھی نہ کرے(۲) قیام عیدین کے بھی شرائط قیام جمعہ کے مثل ہیں، حضرت علیؓ سے روایت:

لاجمعۃ ولاتشریق إلا فی مصر جامع(۳)

(۱)وبالجملۃ فقد ثبت أنہ ینبغی الإتیان بھذہ الأربع بعد الجمعۃ لکن بقی الکلام فی تحقیق أنہ واجب أومندوب قال المقدسی: ذکر ابن الشحنۃ عن جدہ التصریح بالندب۔ ردالمحتار،ج۳،ص:۱۷

(۲)نعم إن أدی إلی مفسدۃ لاتفعل جھاراً۔ ردالمحتار،ج۳،ص:۱۷

(۳)السنن الکبری للبیہقی،کتاب الجمعۃ، باب العدد الذین إذا کانوا فی قریۃ وجبت علیہم الجمعۃ، حدیث نمبر:۵۶۱۵          ==

مذکورہ تمام چھوٹی بستیاں مصر جامع نہیں ہیں اور نہ فنائے مصر ہیں، لہذا پہلے ہی جمعہ وعیدین قائم نہیں ہونا چاہئے تھا۔ حضرت علیؓ کی روایت کے بموجب لیکن جیسا کہ اوپرلکھا جاچکا ہے کہ قیام کے بعد بند کرنا انتشار پیدا کرتا ہے:

الفتنۃ أشد من القتل(۱)

لہذا جمعہ کو ہی فرض کی صورت میں متعین سمجھنا چاہئے۔

تحریر:مسعود حسن حسنی    تصویب:ناصرعلی ندوی