ایک گاؤں میں متعدد جمعہ

ایک گاؤں میں متعدد جمعہ
نومبر 10, 2018
ایک گاؤں میں متعدد جمعہ
نومبر 10, 2018

ایک گاؤں میں متعدد جمعہ

سوال:انوپ شہر ۳۰-۲۵ ہزار کی آبادی کا قصبہ ہے ، یہاں مسلم آبادی کا تناسب ایک چوتھائی ہے اور چوتھائی کلو میٹر کے دائرہ میں ۱۱مساجد ہیں، لیکن نماز جمعہ صرف چار مساجد میں ادا کی جاتی ہے، جمعۃ الوداع میں کثیر بھیڑ کی بنا پر روڈ پر نماز ادا کرنی پڑتی ہے، جس سے دونوں جانب کی ٹریفک بالکل بند ہوجاتی ہے، جس سے عام لوگوں میں ناراضگی پیدا ہورہی ہے، ایسی صورت میں کیا باقی ۷مساجد میں نماز جمعہ قائم ہوسکتی ہے؟یا صرف انہی چارمساجد میں نماز ادا کرنی چاہئے؟

ھــوالــمـصــوب:

جب مسجد مصلیوں کیلئے تنگ پڑجائے اور ایک مسجد کے اندر سارے لوگوں کی گنجائش باقی نہ رہے تو قصبہ کی دوسری مسجد کے اندر جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

وتؤدی الجمعۃ فی مصر واحد فی مواضع کثیرۃ وھوقول أبی حنیفۃ ومحمد رحمھما ﷲ تعالیٰ وھو الأصح وذکر الإمام السرخسی أنہ الصحیح من مذھب أبی حنیفۃ رحمہ ﷲ تعالیٰ،

(۱)ولا بأس بالجمعۃ فی موضع أو ثلاثۃ فی مصر واحد عند محمد……وفی الولوالجیۃ إقامۃ الجمعۃ فی موضعین فی مصر واحد الصحیح عند أبی حنیفۃ ومحمد یجوز۔ الفتاویٰ التاتارخانیۃ،ج۱،ص:۵۳۳

وبہ ناخذ، ھکذا فی البحرالرائق(۱)

تحریر:محمدطارق ندوی       تصویب: ناصرعلی ندوی