اذان ثانی کہاں دی جائے؟

اذان ثانی کہاں دی جائے؟
نومبر 10, 2018
اذان ثانی کہاں دی جائے؟
نومبر 10, 2018

اذان ثانی کہاں دی جائے؟

سوال:خطبہ کی اذان بین یدی الخطیب فی الصف الأول کس صحابیؓ نے کیا یا کسی خلیفہ نے حکم دیا؟ جبکہ کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ زمانۂ رسول ﷺ اور ابوبکرؓ وعمرؓ علی باب المسجد اذان ہوتی تھی تو پھر فی الصف الاول بین یدی الخطیب کیوں کی گئی اور دورعثمانیہ میں اگر اذان رسول ﷺ سے کفایت نہیں تھی بوجہ آواز پہنچ پانے کے تویہ ضرورت پھر مشینوں کے آنے کے بعد ختم ہوگئی، تو پھر اذان رسول صلعم پر اکتفا کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟ اور لوگوں کو بین یدی الخطیب فی الصف الاول اور بین یدی الخطیب فی خارج المسجد اور فی آخرالصف کا اختلاف پھل پھول رہا ہے اور ہاں اگر صرف اذان رسول صلعم پر ہی اکتفا کریں تو کون سا جرم ہورہا ہے، اگر کوئی جرم نہیں اور شاید نہیں ہے تو پھر اذان زمانۂ رسول صلعم پراکتفا کرنا چاہئے۔

ھــوالــمـصــوب:

خطبہ کی اذان حضور ﷺ کے زمانہ میں کہاں ہوتی تھی اس کی تعیین میں اختلاف ہے لیکن اکثر احادیث داخل مسجد پر دلالت کرتی ہیں۔ بین یدی الخطیب اذان دینے کی وجہ یہ ہوئی کہ اذان ثانی کے بعد اذان اول کے مقصود میں تبدیلی ہوئی۔ اذان ثانی کامقصود وہ ہے جو اذان اول سے تھا اور اذان اول مثل اقامت ہوگئی کہ مصلی خطبہ کے لئے تازہ دم ہوجائے اور ذہن کو خطبہ کے لئے تیار کرے، صرف آواز پہنچانا ہی مقصود نہ تھا بلکہ نماز کے لئے تیاری مقصود تھی۔ حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے:

علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین تمسکوا

(۱) السعایہ ج۲،ص:۳۸، باب الأذن(مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور پاکستان)

بہا وعضوا علیھا بالنواجذ(۱)

لہذا صحابۂ کرام ؓ کا جس پر عمل ہے وہی ہمارے لئے حجت ہے:

وتبیین بما مضی أن عثمان أحدثہ لإعلام الناس بدخول وقت الصلاۃ قیاساً علی بقیۃ الصلوات وألحق الجمعۃ بھا وأبقیٰ خصوصیتھا بالأذان بین یدی الخطیب(۲)

قولہ ’إذا جلس الإمام‘ قال المھلب: الحکمۃ فی جعل الأذان فی ھذا المحل لیعرف الناس جلوس الامام علی المنبر فینصتون لہ اذا خطب(۳)

تحریر:مسعود حسن حسنی    تصویب: ناصر علی ندوی