تراویح میں رکعات کی تعداد

تراویح میں رکعات کی تعداد
نومبر 5, 2018
تراویح میں رکعات کی تعداد
نومبر 5, 2018

تراویح میں رکعات کی تعداد

سوال:۱-صحیح حدیث سے رسول ﷲ ﷺ کا کتنے رکعت تراویح کا پڑھنا ثابت ہے؟ حضور کے بعد خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کا تراویح میں کتنے رکعت پڑھنا ثابت ہے اور حضرت عمرؓ نے تراویح کی کتنی رکعت پڑھانے کا حکم فرمایا تھا، بعض ائمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے گیارہ رکعت مع وتر پڑھانے کا حکم فرمایا ہے اور بعض ائمہ کا قول ہے کہ مع وتر تیس رکعت تو اس میں سے صحیح قول کیا ہے؟ اگر کسی نے آٹھ ہی رکعت پڑھ لی تو تراویح میں شمار ہوگی یا نہیں؟

(۱،۲)وقد روی الحسن أن عمر جمع الناس علی أبی بن کعب فکان یصلی لھم عشرین لیلۃ…… وروی مالک عن یزید بن رومان قال: کان الناس یقومون فی زمن عمر فی رمضان بثلاث وعشرین رکعۃ وعن علی أنہ أمر رجلاً یصلی بھم فی رمضان عشرین رکعۃ وھذا کالاجماع۔ المغنی،ج۱،ص:۳۲۶

وأما قدرھا فعشرون رکعۃ…… وھذا قول عامۃ العلماء وقال مالک فی قول ستۃ وثلاثون رکعۃ وفی قول ستۃ وعشرون رکعۃ والصحیح قول العامۃ لما روی أن عمر رضی ﷲ عنہ جمع أصحاب رسول ﷲ فی شھر رمضان علی أبی بن کعب فصلی بھم فی کل لیلۃ عشرین رکعۃ (موطأ) ولم ینکر علیہ أحد فیکون اجماعاً منھم علی ذلک۔ بدائع الصنائع، ج۱،ص:۶۴۴

۲-تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے یا الگ الگ ہے؟

۳-صلوۃ تراویح میں امام قرآن شریف دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر کسی نے صلوۃ تراویح میں قرآن شریف دیکھ کر تلاوت کی تو نماز میں کچھ خرابی واقع ہوگی یا نہیں؟

ھــوالــمـصــوب:

صحیح بخاری کی روایت ہے:

أن رسول ﷲ ﷺ صلی ذات لیلۃ فی المسجد فصلی بصلاتہ ناس ثم صلی من القابلۃ فکثر الناس ثم اجتمعوا من اللیلۃ الثالثۃ أو الرابعۃ فلم یخرج إلیھمفلما أصبح قال:قد رأیت الذین صنعتم ولم یمنعنی من الخروج إلیکم الا أنی خشیت أن یفرض علیکم وذلک فی رمضان(۱)

فتح القدیر میں ایک روایت بیس رکعت کی بھی نقل کی ہے:

أنہ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ سوی الوتر(۲)

لیکن اس روایت کو ابن حجر الہثیمی نے ضعیف قرار دیا ہے:

وقال ابن حجر الہیثمی :لم یصح أن النبی ﷺ صلی التراویح عشرین رکعۃ وما ورد أنہ کان

(۱)صحیح البخاری،کتاب الصلاۃ،باب ترک القیام للمریض،حدیث نمبر:۱۱۲۹

(۲)فتح القدیر،ج۱،ص:۴۸۵،مصنف ابن ابی شیبۃ کتاب الصلاۃ،باب کان یری القیام فی رمضان، حدیث نمبر:۷۷۷۴، رواہ الطبرانی فی الکبیروالاوسط وفیہ ابوشیبۃ ابراہیم وہوضعیف۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج۳، ص:۲۲۴،حدیث نمبر:۵۰۱۸

علامہ زیلعیؒ لکھتے ہیں:وہومعلول بأبی شیبۃ ابراہیم بن عثمان جد الإمام أبی بکر بن ابی شیبۃوہومتفق علی ضعفہ ولینہ ابن عدی فی الکامل ثم انہ مخالف للحدیث الصحیح۔نصب ا لرایۃ،ج۲،ص:۱۵۰

یصلی عشرین رکعۃ، فھوشدید الضعف(۱)

بہرحال حضرت عمرؓ نے ایک امام کے پیچھے بیس رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور اس پر تمام صحابہ کرامؓ کا اتفاق رہا ہے، اور جمہور علماء من مسالک الاربعۃ اسی کے قائل رہے ہیں۔ چنانچہ اجماع صحابہ اور حدیث:

علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین(۲)

کی رو سے اسی پر عمل کرنا ضروری ہے:

…… فصلی بھم عشرین رکعۃ، ولم ینکر علیہ أحد فیکون اجماعا منھم علی ذلک، وقال الدسوقی وغیرہ، کان علیہ عمل الصحابۃ والتابعین، وقال ابن عابدین :علیہ عمل الناس شرقا وغربا(۳)

مالکیہ کا کہنا ہے کہ رمضان میں بیس رکعتیں اور چھتیس رکعتیں پڑھنا جائز ہے(۴)

ابن ہمام لکھتے ہیں کہ مؤطا میں گیارہ رکعت کی ایک روایت ہے اس میں تطبیق یہ کی گئی ہے کہ پہلے اس پر عمل تھا لیکن اب بیس ہی رکعت پر عمل باقی رہا:

کنا نقوم فی زمان عمربن الخطاب…… وفی المؤطا روایۃ بأحدی عشرۃ وجمع بینھما بأنہ وقع أولاً ثم استقر الأمر علی العشرین فإنہ المتوارث(۵)

۲-دونوں الگ الگ نمازیں ہیں۔

۳-بلاعمل کثیر بھی دیکھ کر پڑھنا مکروہ ہے، عمل کثیر کی صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی(۶)

تحریر:مسعودحسن حسنی     تصویب: ناصر علی ندوی