فجر کی نماز کا مستحب وقت

اوقات کے اندر نماز پڑھنا شرعا مطلوب ہے
نومبر 1, 2018
فجر کی نماز کا مستحب وقت
نومبر 1, 2018

فجر کی نماز کا مستحب وقت

سوال:فجر کی نماز احناف کے نزدیک اسفارمیں پڑھنی مستحب ہے۔ براہ کرم مندرجہ ذیل سوالات کی وضاحت فرمائی جائے۔

طلوع آفتاب سے کم از کم کتنے پہلے نماز ختم کردینی چاہئے۔ اس سلسلہ میں کوئی واضح ہدایت شریعت میں ہے یا نہیں؟اگر ہے تو اس کی وضاحت فرمائی جائے۔ یہاں اکثر مساجد میں ۲۰ سے ۱۵منٹ پہلے نماز شروع کرتے ہیں۔ ایک مسجد کے امام کی دلیل یہ ہے کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ مقتدیوں کی رعایت امام کے لئے ضروری ہے۔ چنانچہ بعجلت ممکنہ دورکعت نماز کو ۹ سے ۱۰منٹ میں پڑھادیتے ہیں اور باقی دس منٹ اس امکان کے لئے مخصوص رکھتے ہیں کہ اگر نماز کسی وجہ سے فاسد ہوجائے تو اعادہ کیا جاسکے۔ طلوع آفتاب تک اپنی جگہ بیٹھے رہنے کے مستقل فضائل اور دیگر مصالح مثلاً گھر جاکر اپنے بچوں کو نماز کیلئے اٹھانا وغیرہ۔ ان تمام امور کے لئے صرف دو منٹ باقی رہتے ہیں ۔ عام حالات میں نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتے نکلتے طلوع آفتاب کا وقت ہوچکا ہوتا ہے؟

ھــوالـمـصـــوب:

فجر کی جماعت اسفار (اجالا ہوجائے) میں ہونی چاہئے کہ اگر نماز فاسد ہوجائے تو اعادہ کیا جاسکے(۱) طلوع آفتاب سے ۲۵-۲۰ منٹ پہلے نماز مناسب ہے۔ یہ اسفار میں پڑھنا ہے۔ اسفار میں قرأت مسنونہ کرنا چاہئے، اس میں کمزوروں کی رعایت ہے۔ طلوع آفتاب تک بیٹھے رہنے کی فضیلت ہے اور بچوں کو اٹھانا وغیرہ گھروالوں کو نماز کے لئے متوجہ کرنا ان کا خیال کرنا وغیرہ کی بھی فضیلت ہے۔

تحریر:محمد ظہور ندوی عفا ﷲ عنہ