اوقات میں حساب کا اعتبار

اوقات میں حساب کا اعتبار
نومبر 1, 2018
چوبیس گھنٹے کا ملازم نماز کیسے ادا کرے ؟
نومبر 1, 2018

اوقات میں حساب کا اعتبار

سوال:جیسا کہ رب کریم ورحیم کا قرآن کریم میں فرمان ہے ’بیشک مومنوں پر نماز کو مقررہ وقتوں پر فرض کیا گیا ہے‘۔ یہ مقررہ اوقات قرآن کریم، احادیث شریفہ وکتب فقہ میں بھی مذکور ہیں۔ نماز وروزہ کی ادائیگی کے لئے لوگ مختلف قسم کا نقشہ اوقات صلوۃ وصوم استعمال کرتے ہیں اور طلوع وغروب پر نظر رکھنے کی عادت کو ترک کرنے فقط جنتری پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ خواہ وہ جنتری صحیح ہو یا غلط۔ اس کی تحقیق وتصدیق کی فکر کوئی نہیں کرتا۔ گورکھپور، لکھنؤ اور کانپور وغیرہ کی مطبوعہ جنتریوں کے حساب سے اگر طلوع فجر وغروب آفتاب کا مشاہدہ کریں تو آٹھ، نومنٹ تک کی غلطی ملتی ہے۔ ایسی صورت میں ان جنتریوں پر عمل کرکے لوگ فجر کی اذان طلوع صبح صادق سے تقریباً آٹھ منٹ پہلے دیتے ہیں تو وہ اذان کیوں کر درست ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بقیہ اوقات میں بھی تقدیم یا تاخیر کا امکان رہتا ہے جس سے احکام شریعت کی صحیح پیروی نہیں ہوپاتی ہے۔

اسی فکر کو لے کر میں نے مولانا محمد انس صاحب دہلی سے رابطہ قائم کیا اور آنجناب نے خاص نوگڑھ کے لئے جدید طریقہ سے ایک نقشہ اوقات صوم وصلوۃ برائے نوگڑھ تیار کرکے ہمیں مرحمت فرمایا اور اسے چھپوایا گیا اور کئی لوگوں نے طلوع وغروب کا مشاہدہ کرکے اس میں مندرجہ اوقات کو بالکل صحیح پایا۔ نیز دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام نے اس کی صحت پر مہر تصدیق ثبت کیا ہے۔ نوگڑھ واطراف کے لوگ اسی کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں لیکن افسوس کہ کچھ لوگ دارالعلوم دیوبند کی تصدیق کے باوجود اس نقشہ کو نظرانداز بلکہ تغلیط کرتے ہوئے گورکھپور والی جنتری پر عمل کرتے ہیں۔

بریں بنا آنجناب سے التماس ہے کہ دینی رہنمائی کے مدنظر واضح فرمائیں کہ مولانا محمد انس صاحب کا نقشہ ہذا صحیح ہے یا غلط؟ اگر صحیح ہے تو صحت نقشہ کی تصدیق فرمائیں تاکہ مسلمانان علاقہ نوگڑھ کا شک دور ہو اور لوگ اس کے مطابق عمل کرنے پر آمادہ وتیار ہوں۔

ھــوالـمـصـــوب:

آپ نے کمپیوٹر سے تخریج شدہ جو نقشہ بھیجا ہے اور یہ ذکر کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے طلوع وغروب کا مشاہدہ کیا تو اس نقشہ کو مشاہدہ کے مطابق پایا تو بلاشبہ اس پر اعتماد رکھنے والے عمل کریں۔ لیکن جن لوگوں کو اس نقشہ پر اعتماد نہ ہو تو وہ اپنے مشاہدہ کے مطابق عمل کرنے کے مکلف ہیں۔ اس مذکورہ نقشہ پر عمل کے مکلف نہیں ہیں۔ کیوں کہ مشاہدہ کی اہلیت رکھنے والے مشاہدہ کے مکلف ہیں اور جن کے اندر اہلیت نہیں ہے تو وہ ان اہلیت رکھنے والوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی تقلید کے مکلف ہیں۔

تحریر:محمد ظفرعالم ندوی  تصویب:ناصر علی