اوقات صلوۃ میں اختلاف

مختلف اوقات سے متعلق ایک سوال
نومبر 1, 2018
نماز کے وقت کا مقدم ومؤخر کرنا
نومبر 1, 2018

اوقات صلوۃ میں اختلاف

سوال:ہمارے شہر اورنگ آباد میں اوقات صلوۃ کے بارے میں دوتختے ترتیب دیے گئے ان دونوں میں ابتداء وقت عشا اور ابتداء وقت فجر میں بڑا اختلاف ہے جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی ہے کہ دونوں میں کون سا درست ہے ، دائمی تقویم شائع کرہ جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم میں یکم جون کو ابتداء وقت عشاء (۲۸․۸)دیا گیا ہے جبکہ غروب آفتاب دونوں ٹخنوں میں (۱۰․۷) پر ہے اور مولانا منصب خاں صاحب کے مرتبہ تختۂ اوقات صلٰوۃ میں ابتداء وقت عشاء یکم جون (۰۳․۸) پر دیا گیا ہے ۔ حضرت والا سے دریافت طلب امریہ ہے کہ دونوں میں سے کونسا ابتداء وقت عشاء درست ہے۔ مولانا منصب خاں صاحب کے دیے گئے وقت عشاء یعنی (۰۳․۸) پر دی گئی اذان عشاء درست ہوجائے گی یا لوٹانا ہوگا۔ اسی طرح جامعہ اسلامیہ کی دائمی تقویم میں ابتداء فجر یکم جون کو (۲۶․۴) اور انتہائے وقت سحر (۱۶․۴) دیا گیا جبکہ طلوع آفتاب دونوں تختوں میں (۵۳․۵) پر ہے جبکہ مولانا منصب خاں صاحب کے تختہ اوقات صلوٰۃ میں ابتداء وقت فجر (۳۸․۴) دیا گیا ہے ونیز ایک مفتی صاحب نے فتویٰ کے بموجب ابتداء وقت سحر (۳۶․۴) بتایا گیا ہے۔ حضرت والا ارشاد فرمائیں کہ دونوں اوقات ابتداء فجر میں کون سا وقت فجر درست ہے ونیز یکم جون کو (۳۶․۴) تک سحر کرنے والے کا روزہ درست ہوگا یا قضاء لازم آئے گی؟

ھــوالـمـصـــوب:

دریافت کردہ صورت میں دراصل آفتاب کی گردش کا حساب تخمینی ہے ، یقینی نہیں۔ لہذا احتیاط ملحوظ رکھ کر عمل کیا جائے، جہاں تاخیر میں احتیاط ہو وہاں تاخیر اور جہاں عدم تاخیر میں احتیاط ہو وہاں عدم تاخیر پر عمل کیا جائے، ایک نقشہ کی پابندی کچھ ضروری نہیں۔بظاہر کاشف العلوم کا نقشہ صحت سے قریب معلوم ہوتا ہے۔

تحریر: محمدظفرعالم ندوی  تصویب:ناصر علی ندوی