کالا خضاب لگانے والے کی امامت

امام نماز کے دوران سوجائے؟
نومبر 3, 2018
کالا خضاب لگانے والے کی امامت
نومبر 3, 2018

کالا خضاب لگانے والے کی امامت

سوال:۱-کالاخضاب لگانے والے عالم وحافظ کے پیچھے نماز پـڑھنا

(۱)البحرالرائق،ج۱،ص:۶۱۰

(۲)ومنھا أن یکون المؤذن علی الطھارۃ لأنہ ذکر معظم فإتیانہ مع الطھارۃ أقرب إلی التعظیم وإ ن کان علی غیرطھارۃ بأن کان محدثاً یجوز ولایکرہ حتی لا یعاد فی ظاھر الروایۃ۔ بدائع الصنائع،ج۱،ص:۳۷۴

درست ہے یا نہیں؟

۲-اگر مجمع میں کالاخضاب لگانے والے عالم سے بہتر قرآن پڑھنے والا اور مسائل سے واقف اور زیادہ متقی کوئی دوسرا نہیں تو کیا محض خضاب لگانے کی وجہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہ ہوگا؟ جب کہ اکثر مصلی اچھے عالم وقاری ہونے کی وجہ سے ان کی اقتدا کرنا چاہتے ہیں؟ لیکن چار چھ آدمی ان کی مخالفت میں صف سے نکل کر تنہا نماز ادا کرتے ہیں۔کیا یہ حضرات ترک جماعت کی وعید کے سزاوار نہ ہوں گے؟

۳-کالاخضاب کن صورتوں میں لگایا جاسکتا ہے؟ اگر کوئی دینی تحریک کا روح رواں غیروں پر رعب جمانے کے لئے اس کو استعمال کرتا ہے تو کیسا ہے؟

ھـو المـصـوب

۱-کالاخضاب لگانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا مع الکراہت درست ہے(۱)

۲-کالا خضاب استعمال کرنے والا زیادہ سے زیادہ ایک مکروہ عمل کا مرتکب کہلائے گا، اگر مجمع میں اس سے بہتر قاری، مسائل سے واقف اور متقی نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کی اقتداء افضل ہے بمقابلہ تنہا نماز پڑھنے کے(۲) اس صورت میں تنہا نماز ادا کرنے والے ترک جماعت کی وعیدکے مستوجب ہوں گے،اس لئے جماعت ترک کرنے والوں کو اس عمل سے گریز کرنا چاہئے۔

۳-کالا خضاب جنگ کے موقع پر دشمن کو مرعوب کرنے اور ان پر اپنی ہیبت طاری کرنے کے لئے لگایا جاسکتا ہے:

وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلک من الغزاۃ لیکون أھیب فی عین العدو فھو محمود

(۱)وأما الخضاب بالسواد …… ومن فعل ذلک لیزین نفسہ للنساء ولیحبب نفسہ إلیھن فذلک مکروہ وعلیہ عامۃ المشائخ۔الفتاویٰ الہندیہ، ج۵،ص:۳۵۹

(۲) فالحاصل أن یکرہ لھولاء التقدم ویکرہ الاقتداء بھم کراھۃ تنزیھۃ فإن أمکن الصلاۃ خلف غیرھم فھو أفضل وإلا فالاقتداء أولیٰ من الإنفراد وینبغی أن یکون محل کراھۃ الاقتداء بھم عند وجود غیرھم والا فلاکراھۃ کما لا یخفی۔ البحرالرائق،ج۱،ص:۶۱۱

منہ اتفق علیہ المشائخ(۱)

البتہ دینی تحریک کے روح رواں کے لیے مکروہ عمل کا ارتکاب درست نہیں ہے۔

تحریر: محمدظفرعالم ندوی  تصویب: ناصر علی ندوی