چھوٹی داڑھی والے کی امامت

چھوٹی داڑھی والے کی امامت
نومبر 3, 2018
چھوٹی داڑھی والے کی امامت
نومبر 3, 2018

چھوٹی داڑھی والے کی امامت

سوال:ایک مسجد میں ایک حافظ قرآن رمضان کے دوران صرف تراویح پڑھانے آتے ہیں، یہ حضرت رمضان کے چند روز قبل سے شیو (Shave) کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور داڑھی رکھ لیتے ہیں، اور عید کے بعد پھر داڑھی منڈوالیا کرتے ہیں۔

۱-کیا اس طرح سے عارضی طور پر رکھی گئی داڑھی کا شمار شرعی داڑھی میں ہوگا؟

۲-کیا اس طرح سے وقتی طور پر رکھی گئی داڑھی والے امام کے پیچھے تراویح پڑھنا جائز ہے یا مکروہ؟

(۱) تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامک فقہ اکیڈمی کی تجاویز : نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے،ص:۱۹۳

(۲)قولہ والسنۃ فیھا القضبۃ وھو أن یقبض الرجل لحیتہ فما زاد منھا علیٰ قبضۃ قطعہ…… قال وبہ ناخذ۔ ردالمحتار،ج۹،ص:۵۸۳

وإن تقدموا وصلوا جازت الصلاۃ لقولہ صلی ﷲ علیہ وسلم صلوا خلف کل بر أو فاجر ووجہ الاستدلال أن کل واحد من ھؤلاء المذکورین إما أن یکون برا أوفاجرا فتجوز الصلاۃ خلفہ علی کل حال۔ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ھامش فتح القدیر،ج۱،ص:۳۶۱

۳-اور یہ کہ اگر یہ حافظ اس بات کا عہد یا وعدہ کرلیتے ہیں کہ اب وہ اس داڑھی کو بطور سنت برقرار رکھیں گے تو کیا اس اتنی مختصر داڑھی میں انہیں تراویح پڑھانے دیا جائے؟

ھـو المـصـوب

۱-اس طرح سے عارضی طور پر رکھی گئی داڑھی اگر ایک مشت کے برابر ہے تو شرعی داڑھی ہوگی اور اگر اس سے کم ہے تو پھر شرعی داڑھی نہ ہوگی۔

۲-وقتی طور پر رکھی گئی داڑھی والے امام کے پیچھے تراویح پڑھنا مکروہ ہوگا(۱)

۳-عہد یا وعدہ کرلینے کی صورت میں اس رمضان میں امامت نہیں کرسکتے ہیں، البتہ وعدہ پورا کرنے پر آئندہ رمضان میں تراویح پڑھاسکتے ہیں۔

تحریر:محمد ظہور ندوی